خیبرپختونخوا اسمبلی کے استحقاق اور مراعات کا نیا قانون، خلاف ورزیوں پر سخت سزائیں مقرر

خیبرپختونخوا اسمبلی کے استحقاق اور مراعات کا نیا قانون، خلاف ورزیوں پر سخت سزائیں مقرر

 

نئے قانون کے مطابق اسمبلی رکن کو دھمکانے، حملہ کرنے یا راستہ روکنے پر 6 ماہ تک قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی، اسمبلی اجلاس یا کمیٹی میں رکن کی توہین یا کارروائی میں رکاوٹ ڈالنا بھی قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔

قانون کے تحت گواہوں کو دھمکانے یا متاثر کرنے پر 2 ماہ قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ، جبکہ جعلی دستاویز یا جھوٹا بیان اسمبلی یا کمیٹی میں پیش کرنے پر کارروائی کی جا سکے گی۔

اسمبلی ریکارڈ یا طلب کردہ دستاویز کو نقصان پہنچانے پر 6 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا اسمبلی ارکان کو بلیو پاسپورٹ سمیت متعدد نئی مراعات مل گئیں

نئے قانون میں اسمبلی یا کمیٹی کے سامنے سوال کا جواب دینے سے انکار پر 2 ماہ قید اور 2 لاکھ روپے جرمانہ، جبکہ اسمبلی کارروائی کی جھوٹی یا مسخ شدہ رپورٹ شائع کرنے کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔

قانون کے مطابق اسمبلی کی اجازت کے بغیر کارروائی کا مخصوص مواد شائع نہیں کیا جا سکے گا، جبکہ ممنوعہ اسمبلی کارروائی شائع کرنے پر 6 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہو سکے گا۔

اسمبلی یا سپیکر کے خلاف ہتک آمیز مواد شائع کرنے اور ارکان کے خلاف جھوٹا یا بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کرنے پر بھی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

شیڈول کے مطابق اسمبلی یا اسپیکر کے قانونی احکامات نہ ماننے پر 3 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ، بغیر اجازت اسمبلی ہال میں داخل ہونے پر ایک ماہ قید یا ایک لاکھ روپے جرمانہ ہو سکے گا۔

قانون میں اسمبلی احاطے میں غیر مہذب رویے، ہنگامہ آرائی، کارروائی میں خلل ڈالنے، اسلحہ یا دھماکا خیز مواد لانے، ارکان یا اسمبلی افسران کو رشوت کی پیشکش کرنے سمیت دیگر معاملات پر بھی سزائیں شامل کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا اسمبلی میں صحافیوں پرقید، جرمانہ اور پابندی کا قانون منظور

نئے قانون کے تحت اسمبلی اور کمیٹیاں کسی بھی شخص یا ریکارڈ کو طلب کر سکیں گی، طلبی سے انکار پر وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے، اسمبلی کارروائی کو بعض حالات میں خفیہ رکھنے کا اختیار سپیکر کو حاصل ہوگا۔

استحقاق کی خلاف ورزی سے متعلق مقدمات جوڈیشل کمیٹی کو بھیجے جا سکیں گے، جو استحقاق کمیٹی کی سفارش پر کارروائی شروع کرے گی۔

اسمبلی اور کمیٹیوں کو گواہوں سے حلف لے کر بیانات ریکارڈ کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے، تاہم کسی ملزم کو اپنے خلاف بیان دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکے گا۔

جوڈیشل کمیٹی کے فیصلے کے خلاف اسپیکر کو 30 روز میں اپیل کا حق حاصل ہوگا اور سپیکر کا فیصلہ حتمی تصور کیا جائے گا، قانون کے مطابق نیک نیتی سے کیے گئے اقدامات پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکے گا، یہ قانون دیگر متصادم قوانین پر بالادستی رکھے گا۔

نئے قانون کے ذریعے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اختیارات، استحقاق اور خصوصی مراعات کے تحفظ کے لیے جامع قانونی فریم ورک متعارف کرا دیا گیا ہے۔