گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی حکومت کی ترجیح ہے: وزیراعظم

گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی حکومت کی ترجیح ہے: وزیراعظم

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے گلگت بلتستان اسمبلی کے اراکین سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ پاکستان سے محبت، وفاداری اور قومی یکجہتی کا عملی ثبوت دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کے منتخب نمائندے ہونے کے ناطے اراکین اسمبلی کے ذریعے عوامی مسائل، توقعات اور ترجیحات سے براہ راست آگاہی حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر حکومت کا مقصد عوام کی خدمت اور ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا ہے، گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل، سیاحتی مقامات اور معدنی ذخائر کو بروئے کار لا کر مقامی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید فنی تربیت اور باعزت روزگار کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیح ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں چار دانش سکول تعمیر کے آخری مراحل میں ہیں اور آئندہ سال ان میں کلاسز کا آغاز ہو جائے گا، شمسی توانائی سے 100 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، موسمیاتی تبدیلی اور گلیشیئرز سے متعلق پیشگی اطلاع کا نظام بھی نصب کیا گیا ہے تاکہ مقامی آبادی کو بروقت آگاہی فراہم کی جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل، بہتر طرز حکمرانی اور شفافیت کے فروغ کے لیے وفاقی اور مقامی قیادت کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے، انہوں نے اراکین اسمبلی کی تجاویز اور سفارشات کو اہم قرار دیتے ہوئے تعمیری کردار ادا کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مشترکہ کوششوں سے گلگت بلتستان کو ترقی، خوشحالی اور پائیدار استحکام کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔

وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جو اراکین اسمبلی کی جانب سے پیش کی گئی قابل عمل تجاویز کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی، کمیٹی میں وزیر برائے امور گلگت بلتستان و کشمیر امیر مقام اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناء اللہ بھی شامل ہوں گے۔

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر برائے امور گلگت بلتستان و کشمیر امیر مقام اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناء اللہ بھی شریک تھے۔