خلاصہ
- اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) پاسپورٹ صرف ایک سفری دستاویز نہیں بلکہ ریاست کی خود مختاری، قومی شناخت اور بین الاقوامی تعلقات کی علامت ہوتا ہے، پاکستان اپنے شہریوں کو تین طرح کے پاسپورٹ جاری کرتا ہے تاکہ بیرون ملک سفر، تعلیم، تجارت، ملازمت، سیاحت، علاج اور سرکاری فرائض کی ادائیگی کیلئے شناخت ثابت کی جا سکے۔
پاسپورٹ ایک ایسی سرکاری دستاویز ہے جس کے ذریعے متعلقہ ملک اپنے شہری کی شہریت کی تصدیق کرتا ہے اور دوسرے ممالک سے اس کیلئے قانونی سہولت اور تحفظ کی درخواست کرتا ہے۔
ایک جانب پاسپورٹ کی رینکنگ جاری کرنے والے ادارے جب اپنی رپورٹ جاری کرتے ہیں تو پاکستانی پاسپورٹ کمزور پاسپورٹس کی رینکنگ والے ممالک میں دکھائی دیتا ہے، دوسری جانب پاکستان کے قانون ساز بلیو پاسپورٹ سے متعلق نئی قانون سازی کر تے دکھائی دیتے ہیں، پاکستان میں بنیادی طور پر تین اقسام کے پاسپورٹ جاری کئے جاتے ہیں، سب سے عام گرین پاسپورٹ ہے جو عام شہریوں کو جاری کیا جاتا ہے، بلیو پاسپورٹ سرکاری افسران اور حکومتی فرائض کی انجام دہی کیلئے بیرونِ ملک سفر کرنے والے اہلکاروں کو دیا جاتا ہے جبکہ ریڈ یا سرخ پاسپورٹ سفارتکاروں، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور سفارتی عملے کیلئے مخصوص ہوتا ہے۔
ان مختلف قسم کے پاسپورٹس کا مقصد سفری حیثیت اور سرکاری ذمہ داریوں کے مطابق سہولت فراہم کرنا ہے، اگرچہ ہر پاسپورٹ ہولڈر کو متعلقہ ملک کے امیگریشن قوانین کی پابندی کرنا ضروری ہوتی ہے۔
پاسپورٹس کی رینکنگ کا تعین بنیادی طور پر اس بات سے کیا جاتا ہے کہ کسی ملک کے شہری اپنے پاسپورٹ پر دنیا کے کتنے ممالک میں بغیر ویزا، ویزا آن ارائیول یا دیگر آسان سفری اجازت ناموں کے ساتھ داخل ہو سکتے ہیں، جتنا زیادہ کسی پاسپورٹ کو ویزا فری یا آسان سفری رسائی حاصل ہو اتنا ہی وہ طاقتور اور اعلیٰ درجے کا تصور کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات، دوطرفہ ویزا معاہدے، سکیورٹی، بین الاقوامی اعتماد اور امیگریشن قوانین کی پاسداری بھی پاسپورٹ کی عالمی حیثیت پر اثر انداز ہوتی ہے، پاسپورٹ کی رینکنگ جس بھی حکومت کے دور میں آئے اگرچہ اس میں صرف اس کا کردار نہیں ہوتا مگر اسے تنقید کا نشانہ ضرور بنایا جاتا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ کی ذمہ دار حکومت وقت ہے۔
درحقیقت اس میں بہت سے محرکات شامل ہوتے ہیں اور اس کی ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں بلکہ کہیں نہ کہیں شہریوں پر بھی عائد ہو تی ہے، پاکستانی پاسپورٹ کے استعمال کے دوران شہریوں پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ میزبان ممالک کے قوانین، ویزا شرائط اور مقامی ضابطوں کی مکمل پابندی کریں۔
غیر قانونی قیام، جعلی دستاویزات کا استعمال یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی نہ صرف متعلقہ فرد کیلئے مشکلات پیدا کرتی ہے بلکہ مجموعی طور پر پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران جس طرح پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے بیرون ملک جانے کیلئے جو طریقہ کار اور کردار ادا کیا اس نے بھی اس پاسپورٹ کی ساکھ سے متعلق بڑا منفی کردار ادا کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن ممالک کے ویزے بغیر کسی طویل مرحلے کے ملا کرتے تھے مثلاً یو اے ای سمیت کئی ممالک، انہوں نے پاکستانیوں کیلئے ویزوں کے اجرا میں مشکلات کھڑی کر دیں۔
سعودی عرب میں عمرے کیلئے حاصل کئے گئے ویزوں کا غلط استعمال رپورٹ ہوا، جس کے بعد سفارتخانوں نے پاکستانیوں کیلئے سکروٹنی مزید سخت کر دی اور نتیجتاً پاکستان کی پاسپورٹ کی قدر میں مزید کمی ہوتی گئی۔
ناقدین اس صورتحال کا ذمہ دار عوام سے زیادہ حکومت کو ٹھہراتے ہیں کیونکہ ماضی میں پاسپورٹ کی ساکھ بہتر بنانے کی بجائے پالیسی سازوں نے اپنے لیے نیلے پاسپورٹ کا حصول آسان بنانے پر زیادہ توجہ دی، گرین پاسپورٹ کا غلط استعمال اسے مزید کمزور کرتا رہا مگر جنہوں نے اس پاسپورٹ کی قدر میں اضافہ کرنا تھا ان کے پاس تاحیات بلیو پاسپورٹ تھا۔
بلیو پاسپورٹ پر 36 سے زائد ممالک میں ویزا چھوٹ ملتی ہے جن میں کچھ یورپی ممالک بھی شامل ہیں، یہ پاسپورٹ گریڈ 21 تک کے سرکاری افسران کو بیرون ملک فرائض کی ادائیگی کیلئے ایک مخصوص مدت تک کیلئے ملتا ہے مگر گریڈ 22 کے افسران، ان کی اہلیہ، خاوند اور والدین کو تاحیات اور ان کے 28 سال تک کی عمر کے بچوں کو بھی ملتا ہے، یہ بلیو پاسپورٹ سابق اراکین پارلیمنٹ اور ان کی اہلیہ یا خاوند کو بھی تاحیات ملتا ہے۔
سینیٹ میں حال ہی میں ہونے والی قانون سازی میں کہا گیا کہ یہ بلیو پاسپورٹ سابق اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بچوں کیلئے بھی جاری ہونا چاہیے، دوسری جانب خیبر پختونخوا اسمبلی نے بھی بل منظور کیا ہے جس میں کے پی کے اسمبلی کے ارکین اور ان کی شریک حیات کو بلیو پاسپورٹ دینے کی سفارش کی گئی ہے، پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ کم رہنے کی تنقید حکومت وقت پر اس لئے بھی کی جاتی ہے کہ ہر حکومت یہ دعویٰ کرتی دکھائی دیتی ہے کہ وہ اپنے دور میں سبز پاسپورٹ کی ساکھ کو بہتر بنانے کیلئے کردار ادا کرے گی، مگر اس کے عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔
دوسری جانب صورتحال اس وقت دلچسپ ہو جاتی ہے جب عوام یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے نمائندے تو سبز کی بجائے بلیو پاسپورٹ رکھنا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس وقت اس نئی قانون سازی پر بہت سے حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
سبز پاسپورٹ کی ساکھ بہتر کرنے کیلئے موجودہ دور حکومت کا ایک کریڈٹ ضرور بنتا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان سے بیرون ملک جانے والوں کیلئے ایس اور پیز اور امیگریشن سکروٹنی میں خاطر خواہ بہتری کی ہے جس سے بیرون ملک پاکستانی پاسپورٹ کے غلط استعمال کے امکانات کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
گزشتہ ایک سال کے دوران بیرون ملک جانے کے خواہشمند 40 ہزار افراد کو مختلف وجوہات کی بنا پر آف لوڈ کیا گیا، حکومت کو ایسا کرنے پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر جس انداز میں کئی شہری ملک کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے حکومت کے پاس اپنے نظام میں امیگریشن فلٹرز بہتر بنانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔
اس حوالے سے وزیر داخلہ اور ان کی امیگریشن ٹیم کا کام قابل ستائش ہے تاہم انہیں یہ ضرور یقینی بنانا چاہیے کہ ان ایس او پیز کی آڑ میں جینوئین مسافروں کو تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے، سبز پاسپورٹ کی عزت میں اضافہ کرنے کیلئے حکومت کو کبھی نہ کبھی تو کوئی قدم اٹھانا ہی تھا، اگر سبز پاسپورٹ کی ساکھ اور رینکنگ بہتر ہو جائے تو کسی کو بلیو پاسپورٹ کے حصول کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔