سزایافتہ افراد کو ریلیف صرف قانونی اور عدالتی طریقہ کار کے تحت مل سکتا ہے: طارق فضل چوہدری

سزایافتہ افراد کو ریلیف صرف قانونی اور عدالتی طریقہ کار کے تحت مل سکتا ہے: طارق فضل چوہدری

سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اہبت بیان میں طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کسی بھی وزیراعظم کے ایگزیکٹو آرڈر سے سزا یافتہ افراد کی سزا ختم یا تبدیل نہیں ہو سکتی، اپوزیشن کا حکومت پر ذاتی انتقامی کارروائی کا الزام بالکل بے بنیاد اور غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کسی سیاسی انتقام کے تحت نہیں بلکہ صرف قانون اور عدالتی فیصلوں کے مطابق کام کر رہی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل درآمد ہوگا، حکومت اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ سے رجوع کا مقصد فیصلے پر عمل درآمد روکنا نہیں بلکہ صرف قانونی وضاحت حاصل کرنا ہے، عدالت سے رجوع کا مقصد یہ جاننا ہے کہ فیصلہ کسی مخصوص قیدی کے لیے ہے یا تمام قیدیوں پر لاگو ہوتا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مروجہ قوانین کے تحت جیلوں میں موجود تمام سزا یافتہ افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، ضرورت پڑنے پر قیدیوں کو تمام تر علاج معالجے کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجودہ طریقہ کار پر لاگو ہوا تو حکومت اس کی بھی مکمل پاسداری کرے گی، بانی پی ٹی آئی کو سرکاری ہسپتال میں مناسب علاج نہ ملا تو حکومت تمام قانونی آپشنز پر غور کر سکتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے شفا ہسپتال یا ضرورت پڑنے پر بیرونِ ملک بھیجنے کے آپشن پر بھی غور ہو سکتا ہے، حکومت کی نیت بالکل واضح ہے، کسی بھی قیدی کو طبی سہولت سے محروم نہیں رکھنا چاہتے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ قانون کی پاسداری کے ساتھ ساتھ انسانی و طبی تقاضے پورے کرنا ہماری ذمہ داری ہے، حکومت عدالتوں کے فیصلوں کا احترام اور قانون کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یاسمین راشد سمیت تمام قیدیوں کے طبی اور قانونی حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔