عالمی یومِ انسانی ہمدردی

عالمی یومِ انسانی ہمدردی

عالمی یومِ انسانی ہمدردی (World Humanitarian Day) بھی ایسا ہی دن ہے جو ہر سال 19 اگست کو منایا جاتا ہے، یہ دن ان لاکھوں انسانوں کے نام ہے جو جنگوں، قدرتی آفات، قحط، وباؤں، نقل مکانی اور دیگر بحرانوں سے متاثر ہوتے ہیں اور ان لوگوں کے نام بھی جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر مصیبت زدہ لوگوں تک مدد پہنچانے کے لیے میدانِ عمل میں موجود رہتے ہیں، اس دن کا بنیادی مقصد انسانی خدمت کرنے والے کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور بحرانوں میں گھرے لوگوں کی بقا، وقار اور فلاح کے لیے عالمی عزم کو مضبوط کرنا ہے۔

ایک المیے سے جنم لینے والا دن

عالمی یومِ انسانی ہمدردی کی تاریخ ایک المناک واقعے سے جڑی ہوئی ہے، 19 اگست 2003 ء کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر، کینال ہوٹل، پر بم حملہ ہوا جس میں 22 افراد مارے گئے، ان میں اقوام متحدہ کے عراق میں خصوصی نمائندے سرجیو ویئرا ڈی میلو بھی شامل تھے، ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوئے، یہ حملہ نہ صرف اقوام متحدہ کے لیے ایک بڑا سانحہ تھا بلکہ دنیا بھر کے انسانی امدادی کارکنوں کے لیے بھی ایک ایسا لمحہ تھا جس نے ان کے کام کے خطرات کو نمایاں کر دیا۔

اس سانحے کی یاد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2008ء میں قرارداد کے ذریعے 19 اگست کو عالمی یومِ انسانی ہمدردی قرار دیا، انسانی ہمدردی محض کسی ضرورت مند کو چند روپے یا کھانے کا ایک پیکٹ دینے کا نام نہیں، یہ دراصل اس بنیادی انسانی اصول کا نام ہے کہ مصیبت میں مبتلا انسان کی مدد کی جائے خواہ اس کا تعلق کسی بھی ملک، مذہب، نسل، زبان یا سیاسی گروہ سے ہو، جنگ زدہ علاقے میں زخمی شخص کو طبی امداد دینا، سیلاب زدگان کو محفوظ مقام تک پہنچانا، بے گھر خاندانوں کو خوراک اور خیمے فراہم کرنا، بچوں کو تعلیم کے مواقع دینا اور وبا کے دوران لوگوں کو طبی سہولت پہنچانا،یہ سب انسانی خدمت کے مختلف روپ ہیں۔

خطرے میں امید

قدرتی آفت یا جنگ کے دوران عام انسان عموماً محفوظ مقام تلاش کرتا ہے مگر انسانی امدادی کارکن اکثر اس کے برعکس خطرے کے مرکز کی طرف بڑھتے ہیں، ڈاکٹر، نرسیں، ریسکیو اہلکار، رضاکار، ڈرائیور، امدادی اداروں کے کارکن اور مقامی کمیونٹی کے افراد اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی زندگی بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

انسانی کارکن صرف خوراک اور پانی تقسیم نہیں کرتے وہ تباہ شدہ معاشروں کو دوبارہ کھڑا کرنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں، وہ بچوں کے لیے عارضی سکول قائم کرتے ہیں، بیماروں کا علاج کرتے ہیں، بے گھر افراد کو پناہ دیتے ہیں، خواتین اور بچوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لانے میں مدد کرتے ہیں۔؂
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ دوسروں کی جان بچانے نکلتے ہیں وہ خود بھی محفوظ نہیں، اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اقوام متحدہ کے393 امدادی کارکن مارے گئے۔

اس دن کی اہمیت پہلے سے زیادہ

آج دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں انسانی بحرانوں کی نوعیت زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے، جنگیں، سیاسی تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، خشک سالی، قحط اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے کروڑوں انسانوں کو غیر یقینی زندگی سے دوچار کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے 2026 ء کے جائزے کے مطابق دنیا بھر میں 239 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ عالمی انسانی نظام محدود وسائل کے باوجود تقریباً 135 ملین افراد تک امداد پہنچانے کا ہدف رکھتا ہے، موسمیاتی تبدیلی نے بھی انسانی ہمدردی کی ضرورت میں اضافہ کیا ہے۔
سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے دوران امدادی کارکنوں اور رضاکاروں کا کردار اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ بحران کے وقت ریاستی اداروں کے ساتھ معاشرے کی اجتماعی قوت بھی انتہائی اہم ہوتی ہے۔

انسانی ہمدردی صرف اداروں کی ذمہ داری نہیں

عالمی یومِ انسانی ہمدردی ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کی خدمت صرف اقوام متحدہ، حکومتوں یا بڑے امدادی اداروں کی ذمہ داری نہیں، عام شہری بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرسکتے ہیں، کسی ضرورت مند کی مدد، خون کا عطیہ، آفت زدہ لوگوں کے لیے امداد، کسی بے گھر خاندان کے لیے سہارا یا کسی پریشان انسان کے ساتھ ہمدردی، یہ سب انسانی خدمت کی صورتیں ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس دوسروں کے لیے کتنا ہے اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے پاس موجود وسائل میں سے کتنا بانٹنے کے لیے تیار ہیں۔

انسانیت کو زندہ رکھنے کا عہد

عالمی یومِ انسانی ہمدردی دراصل ایک آئینہ ہے جس میں دنیا اپنی ترجیحات دیکھ سکتی ہے، اگر ایک طرف انسان نے سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی کی حیرت انگیز منزلیں طے کی ہیں تو دوسری طرف کروڑوں انسان آج بھی جنگ، بھوک، بیماری اور بے گھری کا شکار ہیں۔

ترقی کا حقیقی معیار صرف بلند عمارتیں، جدید ٹیکنالوجی یا مضبوط معیشتیں نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ معاشرہ اپنے کمزور ترین انسان کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے، یہ دن ہمیں ان گمنام ہیروز کو یاد کرنے کا موقع دیتا ہے جو کسی تمغے یا شہرت کی خواہش کے بغیر دوسروں کی زندگی آسان بناتے ہیں۔

ان کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانیت کسی سرحد، زبان یا قوم کی پابند نہیں، 19 اگست کا پیغام دراصل بہت سادہ ہے کہ مصیبت میں مبتلا انسان کو تنہا نہ چھوڑا جائے، انسانیت کی خدمت کرنے والوں کو نشانہ نہ بنایا جائے اور دنیا کو اس اصول پر قائم کیا جائے کہ ہر انسان کی جان، عزت اور وقار برابر اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ جب دنیا کے کسی کونے میں ایک انسان دوسرے انسان کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہاں صرف ایک زندگی نہیں بچتی، انسانیت کا تصور بھی زندہ رہتا ہے۔