جعلی بینک اکاؤنٹ کیس: نیب کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری

جعلی بینک اکاؤنٹ کیس: نیب کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کی درخواست میں اٹھائے گئے نکات کو قابلِ غور قرار دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس ایاز شوکت پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کا حکمنامہ جاری کیا۔

نیب کے مطابق احتساب عدالت اسلام آباد نے 4 اکتوبر 2022 کا منجمد اثاثوں سے متعلق حکم واپس لیا تھا۔ نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ احتساب عدالت کا حکم ریکارڈ پر موجود اہم مواد کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے۔

حکمنامے کے مطابق نیب نے کہا کہ احتساب عدالت نے نیب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 13 میں مقررہ ٹائم لائن کو مدنظر نہیں رکھا۔

نیب پراسیکیوٹر کے مطابق سول کورٹ کا فیصلہ اور ڈگری احتساب عدالت پر لازم نہیں، جبکہ سول کورٹ کی کارروائی میں نیب فریق نہیں تھا اور فیصلہ نیب کو سنے بغیر دیا گیا۔

نیب کے مطابق اثاثے منجمد کرنے کا حکم ختم کرتے وقت اہم شواہد اور ریکارڈ کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا۔

نیب نے بتایا کہ فریق نمبر 2 نصیر عبداللہ حسین لوتھا اپنا بیان دفعہ 164 ضابطہ فوجداری کے تحت ریکارڈ کراچکے ہیں۔ نیب کے مطابق نصیر عبداللہ حسین لوتھا نے مبینہ جرم کے ارتکاب سے متعلق بیان دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرایا۔

فریق نمبر 4 کے وکیل محمد وقاص ملک نے عدالت میں پیش ہوکر نوٹس وصول کرلیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کی درخواست پر مزید کارروائی کے لیے کیس 27 اکتوبر کو مقرر کردیا۔