خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی

سابق صوبائی وزیر سید اختر حسین شاہ کی وفات پر ان کے بھائی احمد شاہ کی رہائش گاہ پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو چیلنج کرتا ہوں کہ لانگ مارچ کرکے دکھائے اور صوابی کراس کرکے آئے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر اور وزیراعلیٰ کے بیانات سے صوبے میں انتشار پھیلایا جا رہا ہے، پی ٹی آئی والوں کو واضح کردوں کہ ان کے ساتھ نہ کوئی ڈھیل ہو رہی ہے اور نہ ڈیل ہوگی۔

گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ جو لوگ پہلے فارم 47 والوں سے بات نہ کرنے کا کہتے تھے، آج وہی سب سے پہلے مذاکرات کے لیے پہنچ گئے ہیں، خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے مکمل تیار ہیں، آئین میں اس کی واضح گنجائش موجود ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ افغانستان سے بیانات آرہے ہیں، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا، پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں سوات میں آپریشن کرکے امن قائم کیا تھا، عوام نے 13 سال میں تحریک انصاف کی طرز حکمرانی کی حقیقت دیکھ لی ہے۔

صوبہ ہزارہ کے مطالبے کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ وہ صوبہ ہزارہ کے حق میں ہیں، بلکہ پورے پاکستان میں ایڈمنسٹریٹر لیول پر نئے صوبوں کی اشد ضرورت ہے، دنیا میں نئے صوبے بنتے رہتے ہیں، اگر اراکین اسمبلی چاہیں تو نئے صوبے ضرور بننے چاہئیں۔

گورنر نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کو نظر انداز کرکے ریفرنڈم کی باتیں کرنا شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے، صوبے کے جائز حقوق کے حصول کے لیے وہ موجودہ حکومت کے ساتھ ہیں۔