جعلی چیک کیس: پولیس کی غلط رپورٹ پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ برہم

جعلی چیک کیس: پولیس کی غلط رپورٹ پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ برہم

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے شہری شہباز نور کی مقدمے کے اخراج سے متعلق درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت عدالتی حکم پر سی پی او ملتان عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے سی پی او ملتان سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے کیس کا جائزہ لیا ہے اور وہ اپنے محکمے کی کارکردگی کے بارے میں کیا کہیں گے؟ عدالت نے نشاندہی کی کہ پولیس رپورٹ میں ملزم کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے، جبکہ مدعی کے ساتھ راضی نامہ ہونے کے بعد ملزم کی ضمانت بھی کنفرم ہوچکی ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سوال اٹھایا کہ پولیس اہلکار فائل کیوں نہیں دیکھتے اور عدالت میں غلط رپورٹ کیسے جمع کرائی گئی؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ شوکاز نوٹس جاری کرنے کی کارروائی محض دکھاوا نہیں ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شوکاز نوٹس آنکھوں کا دھوکہ ہے، ہم کسی دھوکے میں نہیں آئیں گے، ایک ماہ بعد شوکاز نوٹس اور معطلی کے احکامات واپس لے لیے جاتے ہیں، اس لیے ایسی کارروائیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ کیا پولیس صرف انہی مقدمات میں کارروائی کرتی ہے جن میں عدالت اسے طلب کرتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ 2018 کا مقدمہ ہے، مدعی رقم لے کر پاکستان سے جا چکا ہے، جبکہ ملزم اب بھی مقدمے میں پھنسا ہوا ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مقدمات کے غیر ضروری التوا اور پولیس کی کارروائیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالتوں میں 2021 کے مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں، لیکن پولیس کی جانب سے دوبارہ چالان جمع کرانے پر پرانا مقدمہ پھر عدالتی نظام میں آجاتا ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ پولیس افسران کو محض اختیارات استعمال کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر توجہ دینی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ کام میں وعدوں کی نہیں، عملی اقدامات کی اہمیت ہوتی ہے۔

اس موقع پر سی پی او ملتان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسی صورت حال پیدا نہیں ہوگی۔

عدالت نے مقدمے میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق ایک ماہ کے اندر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ شہری شہباز نور کے خلاف 20 لاکھ روپے کے جعلی چیک کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کے اخراج کے لیے انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔