پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم شہر منایا جا رہا ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم شہر منایا جا رہا ہے

یہ دن ’’شہر کی ازسر نو تخلیق سب کیلئے مناسب رہائش‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے، دنیا بھر کی طرح پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی یہ سوال سب سے اہم ہے کہ کیا اس میگا شہر میں ہر شہری کے پاس رہنے کیلیے چھت موجود ہے؟

روشنیوں کا شہر کراچی جہاں ملک بھر سے لوگ روزگار اور ترقی کیلئے آتے ہیں، یہ ملک کا معاشی حب ہے مگر مسائل بھی بے پناہ ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں 3.4 ارب افراد مناسب رہائش سے محروم ہیں، شہر قائد بھی دو حصوں میں بٹانظر آتا ہے، ایک طرف بلند و بالا عمارتیں، ڈیفنس اور کلفٹن کے پوش علاقے، اور دوسری طرف اورنگی، مچھر کالونی، لیاری اور ملیر کے پسماندہ علاقوں کی کچی آبادیاں جہاں لوگ بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔

ماہرینِ کہتے ہیں کہ اب نئے شہر بسانے سے زیادہ، موجودہ شہروں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، اگر کراچی کے 60 فیصد سے زائد غیر رسمی آبادیوں کو مناسب رہائش، ٹائٹل اور سہولتیں دے دی جائیں تو یہ شہر حقیقی معنوں میں سب کے لیے رہنے کے قابل بن سکتا ہے۔

میئر کراچی کہتے ہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے، دستیاب وسائل میں ہر ممکن اقدمات کیے جاتے ہیں، شہر اینٹ اور کنکریٹ سے نہیں، لوگوں سے بنتے ہیں۔

ایک اچھا شہر وہی ہے جہاں ہر شخص کے سر پر چھت ہو، چاہے وہ امیر ہو یا مزدور کیونکہ نعرہ صرف یہ نہیں کہ سب کے لئے رہائش، بلکہ نعرہ یہ ہے کہ سب کے لیے مناسب رہائش ہونی چاہئے۔