کیا سوئٹزرلینڈ اپنی آبادی محدود کرنے والا پہلا ملک بن جائے گا؟

کیا سوئٹزرلینڈ اپنی آبادی محدود کرنے والا پہلا ملک بن جائے گا؟

یہ دنیا کا پہلا ملک ہو گا جو اس طرح کا فیصلہ کرے گا، سوئٹزرلینڈ کے شہری آج آبادی محدود کرنے کے فیصلے پر حق رائے دہی کا باضابطہ استعمال کریں گے۔

سوئٹزرلینڈ کی آبادی اس وقت تقریباً 91 لاکھ ہے، ملک کی آبادی کو 2050 تک ایک کروڑ تک محدود کرنے کی تجویز سوئس پیپلز پارٹی نے پیش کی ہے اور حالیہ سروے کے مطابق تقریباً 52 فیصد افراد اس کی حمایت کرتے ہیں۔

عوامی حمایت کی صورت میں دو بڑے اقدامات اٹھائے جائیں گے، پہلے تو سوئٹزرلینڈ کی آبادی 95 لاکھ سے تجاوز کرنے کی صورت میں حکومت پناہ گزینوں کی پالیسی اور فیملی ری یونین کے قوانین کو مزید سخت کر دے گی۔

اس ملک نے 2025 میں 7 ہزار تارکین وطن کو سیاسی پناہ دی، اس کے علاوہ یہاں اس وقت دو لاکھ سے زائد تارکین وطن کسی قسم کے قانونی تحفظ کے تحت رہ رہے ہیں، ان میں اکثریت یوکرین کے باشندوں کی بتائی جاتی ہے۔

یہ نقل مکانی ہے جو اسے تشویش میں مبتلا کر رہی ہے، اس کے باوجود اگر آبادی مسلسل دو سال تک ایک کروڑ سے زیادہ رہتی ہے تو دوسرے مرحلے میں سوئٹزرلینڈ یورپی یونین کے ساتھ آزاد نقل و حرکت کا معاہدہ ختم کر دے گا۔

اس کے ذریعے یورپی یونین کے شہری سوئٹزرلینڈ میں اور اسے طرح اس کے شہری یورپی یونین میں کام، تعلیم اور رہائش حاصل کر نہیں کر سکیں گے۔

دائیں بازو کی سوئس پیپلز پارٹی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی مقامی انفراسٹرکچر، سڑکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی حد کو پہنچ رہی ہے اور ساتھ ہی کرائے اور جرائم کو بڑھا رہی ہے۔

ادھر کمپنیوں اور آجروں کو خدشہ ہے کہ ’ہاں‘ کا ووٹ سوئٹزرلینڈ کی ہنر مند مزدوروں تک رسائی کو محدود کر دے گا اور اس کی سب سے بڑی برآمدی منڈی یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچائے گا۔

مارٹن وون موس، ایک کمپنی کے سی ای او کہتے ہیں کہ ایک سوئس شہری کے طور پر مجھے ہمارے ملک کے مستقبل اور اس کی خوشحالی کے لیے بہت فکر ہے، تاہم میرے ہوٹل کے 115 افراد میں سے تقریباً نصف سوئٹزرلینڈ سے باہر سے آئے تھے،اگر ہم نے اپنا تمام غیر ملکی عملہ کھو دیا تو ہوٹل نہیں چلے گا۔

یہ فیصلہ یورپی اتحاد کو کمزور کر سکتا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ یورپ کا یہ چھوٹا خوبصورت ملک کتنا بڑا فیصلہ کرتا ہے۔