آئن سٹائن کا نایاب خط: محبت میں گرفتار ہونے کا الزام کششِ ثقل کو نہ دیں

آئن سٹائن کا نایاب خط: محبت میں گرفتار ہونے کا الزام کششِ ثقل کو نہ دیں

اس حوالے سے سائیکالوجی ٹوڈے نے ایک رپورٹ شائع کی ہے، وول اخبار ’’لانگ آئی لینڈ ڈیلی اسٹار‘‘ کے نمائندے تھے، انہوں نے بیلجیئم کے قصبے ’’لو کوک سور میر‘‘ میں قیام کے دوران آئن سٹائن کو ایک خط لکھا، جس میں دلچسپ انداز میں سوال کیا کہ آیا محبت میں گرفتار ہونا یا عمومی طور پر حماقتیں کرنا، زمین کی کششِ ثقل کے باعث انسان کے زمین کی سطح پر کھڑے ہونے کے طریقے سے کسی طرح جڑا ہوا ہے؟

انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ ایک ایسی دنیا میں جو انتہائی تیزی سے حرکت کر رہی ہے، انسان کبھی زمین پر معمول کے مطابق کھڑا نظر آتا ہے اور کبھی کرۂ ارض کے مختلف مقامات کے حوالے سے سر کے بل کھڑا دکھائی دیتا ہے، انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس کیفیت کا محبت میں گرفتار ہونے سے بھی کوئی تعلق ہے؟

ایسا لگتا ہے کہ اس سوال نے نظریۂ اضافیت کے خالق آئن سٹائن کا تجسس بڑھا دیا، انہوں نے مختصر جواب دیا جس میں مزاح اور دانائی دونوں کا رنگ نمایاں تھا۔

آئن سٹائن نے کہا کہ محبت میں گرفتار ہونا ہرگز انسان کی جانب سے کی جانے والی سب سے بڑی حماقت نہیں، لیکن اس کی ذمہ داری کششِ ثقل پر عائد نہیں کی جا سکتی، جواب اگرچہ مختصر تھا، لیکن محبت اور انسانی جذبات کے حوالے سے یہ آئن سٹائن سے منسوب مشہور ترین اقتباسات میں شامل ہوگیا۔

اس دور میں رومانوی محبت کو ہمیشہ وہ مثبت نظر نہیں ملتی تھی، جو آج اسے حاصل ہے، پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے درمیانی عرصے میں امریکا میں بہت سے لوگ محبت کو جدید اقدار کی عکاسی سمجھتے تھے، جو اطمینان سے زیادہ تشویش کا باعث بنتی تھیں۔

سماجی طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ امریکی نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایسے جذباتی تعلقات کو ترجیح دینے لگی، جو ضروری نہیں کہ شادی یا خاندان کی تشکیل پر منتج ہوں، یوں وہ 19ویں صدی کے اواخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں رائج روایتی طرزِ زندگی سے دور ہونے لگے۔

مصنف راؤل ڈی روسی ڈی سیلس نے 1938 میں اس صورتِ حال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا شاید دنیا کی واحد ریاست ہے، جہاں محبت ایک قومی مسئلہ ہے، ان کا اشارہ جذباتی تعلقات کے تصور اور معاشرے میں ان کے کردار کے گرد جاری وسیع بحث کی جانب تھا۔

دوسری جانب قدامت پسند حلقوں کا خیال تھا کہ اس وقت جسے آزاد محبت کہا جاتا تھا، وہ روایتی ازدواجی تعلق اور اس سے وابستہ خاندانی ذمہ داریوں کے لیے خطرہ ہے۔ بہت سے لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ فلموں اور مقبول ثقافت نے مثالی محبت سے وابستہ توقعات اس حد تک بڑھا دی ہیں، جنہیں حقیقی زندگی میں پورا کرنا مشکل ہے۔

اس صورتِ حال نے بعض امریکیوں میں اپنی جذباتی زندگی کے حوالے سے مایوسی کے احساسات میں اضافہ کیا، جس کے باعث محبت ایک ذاتی تجربے سے بڑھ کر سماجی اور ثقافتی بحث کا موضوع بن گئی۔

اس کے باوجود آئن سٹائن کا مختصر جواب محبت کے بارے میں سب سے دلچسپ اور گہری گفتگو میں شمار ہوتا رہا، انہوں نے صرف ایک جملے میں طبیعیات کے قوانین اور انسانی جذبات کی پیچیدگی کے درمیان فرق کو بیان کردیا، اور یہ جملہ آج بھی دہرایا جاتا ہے۔