خلاصہ
- سڈنی: (ویب ڈیسک) ایک بین الاقوامی طبی تجربے کے تیسرے مرحلے کے نتائج نے دکھایا ہے کہ جلد کے کینسر کے خلاف ایم آر این اے ٹیکنالوجی سے تیار کردہ پہلی مخصوص ویکسین کو جب معیاری امیونو تھراپی میں شامل کیا گیا تو اس نے میلانلوما کی واپسی یا موت کے خطرے کو 42 فیصد تک کم کر دیا۔ یہ ایک ایسا نتیجہ تھا جو محققین کی توقعات سے بڑھ کر بہتر تھا۔
ویب سائٹ سائنس الرٹ کے مطابق ان نتائج کو تجربے کی اہم محقق میلانلوما انسٹی ٹیوٹ آسٹریلیا کی آنکولوجسٹ گورجینا لونگ نے یورپین سوسائٹی فار میڈیکل آنکولوجی کی 2026 کی کانفرنس کے دوران پیش کیا۔
لونگ کی رائے ہے کہ یہ نتائج قوتِ مدافعت کے نظام کو زیادہ مخصوص طریقے سے استعمال کرتے ہوئے کینسر کے خلاف جنگ میں ایک بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں، یہ کامیابی کینسر کی ادویات کی تیاری کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی حاصل نہیں ہوئی تھی۔
امریکن ایسوسی ایشن فار کینسر ریسرچ کے نو منتخب صدر اور آنکولوجسٹ روبرٹ ونڈرہیڈ، جنہوں نے اس تجربے میں حصہ نہیں لیا تھا، نے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے بیانات میں ان نتائج کو اس شعبے کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے قرار دیا۔
موڈرنا اور مرک کمپنیوں نے سرجری کے بعد میلانلوما کی واپسی کو روکنے کے لیے یہ ویکسین تیار کی ہے، محققین ہر مریض کے ٹیومر کی جینیاتی تسلسل کا تعین کرنے اور یہ جاننے سے شروعات کرتے ہیں کہ اس کا جینیاتی نشان صحت مند خلیوں سے کیسے مختلف ہے، پھر اسی بنیاد پر ویکسین تیار کی جاتی ہے تاکہ وہ ایک مطلوبہ اشتہار کی طرح بن جائے جو قوتِ مدافعت کے نظام کو کینسر سے روشناس کرواتا ہے۔
ویکسین کو ایم آر این اے ٹیکنالوجی کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے تاکہ جسم کے اپنے خلیے قوتِ مدافعت کے نظام کے سامنے یہ اشتہار پیش کریں اور اسے دکھائیں کہ کس چیز پر حملہ کرنا ہے۔
یہ ویکسین امیونو تھراپی کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے جو کینسر کو قوتِ مدافعت کے نظام کو دھوکہ دینے اور اس کے خلیوں کو ایسے ظاہر کرنے سے روکتا ہے جیسے وہ نارمل ہوں، تاہم یہ دوا تمام مریضوں کے لیے ایک ہی ہے جس کی وجہ سے ہر مریض کے لیے مخصوص علاج کا اضافہ نتائج کو بہتر بنانے والا عنصر بن جاتا ہے۔
INTerpath-001 کے نام سے معروف اس تجربے میں دنیا بھر کے 157 مقامات پر 1100 سے زیادہ مریض شامل تھے، یہ تجربیہ 2024 میں شائع ہونے والے دوسرے مرحلے کے نتائج کی حمایت میں کیا گیا، ان مریضوں کے لیے جو علاج شروع ہونے کے چھ ماہ بعد کینسر سے پاک رہے، صرف امیونو تھراپی کے مقابلے میں بیماری کے دوبارہ لوٹنے یا موت کے خطرے میں کمی 58 فیصد تک پہنچ گئی۔
یہ ویکسین ابھی تک آسٹریلیا یا امریکا میں مریضوں کے لیے دستیاب نہیں ہے لیکن نتائج ریگولیٹری جائزہ کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جس میں ہر ملک کے لحاظ سے کئی سال لگ سکتے ہیں، آسٹریلیا میں دنیا بھر میں جلد کے کینسر میں مبتلا ہونے کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ریکارڈ کی جاتی ہے کیونکہ وہاں ہر چھ گھنٹے میں تقریباً ایک شخص اس کی وجہ سے دم توڑ دیتا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ میں آنکولوجسٹ الیکس مینزیس کو امید ہے کہ اس کا فائدہ ایڈوانس سٹیج کے میلانلوما کے مریضوں اور کینسر کی دیگر اقسام تک جائے گا جو موجودہ امیونو تھراپی کا علاج کا فی الحال کافی جواب نہیں دیتی ہیں، راستہ ابھی طویل باقی ہے کیونکہ حال ہی میں مقعد اور بڑی آنت کے کینسر اور سر اور گردن کے کینسر کے خلاف ایم آر این اے ویکسین کا تجربہ کرنے والے کئی بے ترتیب تجربات بیماری کے دوبارہ لوٹنے کو کم کرنے میں ناکام رہے تھے۔
لونگ کا ماننا ہے کہ ہر مریض کے ٹیومر کے منفرد نشان پر مبنی علاج، جب امیون چیک پوائنٹ انہیبیٹرز کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، تو قوتِ مدافعت کے نظام کو کسی بھی بقایا کینسر کے خلیوں کو تلاش کرنے اور انہیں تباہ کرنے کے لیے تیز کرنے کے قابل ہوتا ہے، نئے ذاتی اینٹی جینز کے ذریعے علاج کینسر کے علاج میں وہی کچھ کر سکتا ہے جو ای میل نے لوگوں کے درمیان رابطے میں کیا تھا۔