خلاصہ
- لاہور: (سارہ خان) کسی بھی قوم کی ترقی کا سفر صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی خوشحالی سے طے نہیں ہوتا بلکہ اس کے حقیقی معمار وہ لوگ ہوتے ہیں جو نئی نسل کے ذہنوں کو علم، شعور اور کردار کی روشنی سے منور کرتے ہیں۔
استاد اسی عظیم فریضے کا امین ہے، ماں کی گود سے سیکھنے کا آغاز کرنے والا بچہ جب درسگاہ میں قدم رکھتا ہے تو استاد اس کی صلاحیتوں کو جِلا بخشتا، اس کی سوچ کو وسعت دیتا اور اسے زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا کرنے کے قابل بناتا ہے، استاد صرف کتاب کے اسباق نہیں پڑھاتا بلکہ وہ اپنے کردار، رویے اور رہنمائی سے شاگرد کی شخصیت تشکیل دیتا ہے، اسی لیے استاد کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے، کیونکہ آج کے طالب علم ہی کل کے سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئر، ادیب، محقق، منتظم اور رہنما بنتے ہیں۔
اساتذہ کا عالمی دن ہمیں ان عظیم ہستیوں کی خدمات، محنت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور معاشرے میں ان کے مقام و احترام کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
مُعَلّمِی وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام میں نہیں بلکہ ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے، تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے بھی استاد کی قدر کی وہ دنیا بھر میں سرفراز ہوئی، امریکہ، برطانیہ، جاپان، فرانس، ملائیشیا، اٹلی سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں جو عزت اور مرتبہ استاد کو حاصل ہے، وہ ان ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کو بھی نہیں دیا جاتا کیوں کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ استاد مینار نور ہے، جو اندھیرے میں ہمیں راہ دکھلاتا ہے، ایک سیڑھی ہے، جو ہمیں بلندی پر پہنچا دیتی ہے۔ ایک انمول تحفہ ہے، جس کے بغیر انسان ادھورا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حضورﷺ کو بحیثیت معلم بیان کیا اور خود نبی کریمﷺ نے بھی ارشاد فرمایا کہ ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود ان کے دل میں کوئی حسرت ہے، تو آپؓ نے فرمایا کہ ’’کاش میں ایک معلم ہوتا‘‘۔
استاد کا کردار معاشرے میں بہت اہم ہے، ہر سال 5 اکتوبر کو ’’اساتذہ کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے، اقوام متحدہ نے 1994ء میں یہ دن منانے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ پاکستان میں 2007ء سے یہ دن ’’سلام ٹیچرز‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے، استاد کی عظمت و اہمیت اور معاشرے میں اس کے کردار پر علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کہتے ہیں کہ ’’استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں، کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہیں کے سپرد ہے‘‘۔
معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی، تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سر چشمہ اس کی محنت ہے، معلم فروغ علم کا ذریعہ ہے لیکن اس کے علم سے فائدہ وہ نیک بخت اٹھاتے ہیں، جن کے سینے ادب و احترام کی نعمت سے مالا مال ہوں، کیونکہ ’’ادب ایک درخت ہے اور علم اس کا پھل۔ اگر درخت ہی نہ ہو تو پھل کیسے لگے گا؟‘‘ میری نظر میں سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلموں کی کارگزاری ہے۔
خلیفہ چہارم امیر المومنین حضرت علیؓ نے فرمایا! ’’جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا میں اسے استاد کا درجہ دیتا ہوں، ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں کہ ’’عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کیلئے کھڑے ہو جاؤ‘‘۔
ہارون الرشید کے دربار میں کوئی عالم تشریف لاتے تو بادشاہ ان کی تعظیم کیلئے کھڑا ہو جاتا، درباریوں نے کہا کہ اس سے سلطنت کا رُعب جاتا رہتا ہے تو اس نے جواب دیا کہ اگر علمائے دین کی تعظیم سے رعب سلطنت جاتا ہے تو جائے۔
ہارون الرشید نے اپنے بیٹے مامون کو علم و ادب کی تعظیم کیلئے امام اصمعیؒ کے سپرد کر دیا تھا ایک دن ہارون اتفاقاً ان کے پاس جا پہنچا، دیکھا کہ اصمعیؒ اپنے پاؤں دھو رہے ہیں اور شہزادہ پاؤں پر پانی ڈال رہا ہے، ہارون الرشید نے برہمی سے کہا میں نے تو اسے آپ کے پاس اس لئے بھیجا تھا کہ آپ اس کو ادب سکھائیں گے، آپ نے شہزادے کو یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالے اور دوسرے ہاتھ سے آپ کے پاؤں دھوئے۔