فیس بک صارفین کیلئے اہم انتباہ! پبلک پوسٹس سے رازداری کو خطرہ؟

فیس بک صارفین کیلئے اہم انتباہ! پبلک پوسٹس سے رازداری کو خطرہ؟

اگر آپ فیس بک پر اپنے کسی دوست سے ہونے والے جھگڑے کا ذکر کریں اور بعد میں وہ اے آئی سرچ کے نتیجے میں سامنے آجائے، تو کیا یہ عجیب نہیں لگے گا؟

جی ہاں !! فیس بک کا نیا اے آئی موڈ پبلک پوسٹس کو سرچ رزلٹس کے لیے بطور ڈیٹا سورس استعمال کر رہا ہے، جس سے سائبر کرائم اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق فیس بک اپنے سرچ فیچر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی بڑی تبدیلی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد سرچ بار صرف الفاظ تلاش کرنے کے بجائے ایک چیٹ اسسٹنٹ کی طرح کام کرے گا۔

نئے فیچر کے ذریعے صارفین کئی سال پرانی عوامی پوسٹس، تبصروں اور دیگر دستیاب معلومات کو سوال و جواب کی صورت میں آسانی سے تلاش کر سکیں گے، اس سے وہ معلومات بھی چند لمحوں میں سامنے آسکیں گی جو پہلے ہزاروں پوسٹس کے درمیان تلاش کرنا مشکل تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ فیچر معلومات تک رسائی کو آسان بنائے گا، تاہم اس کے ساتھ رازداری اور آن لائن سکیورٹی سے متعلق خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر عوامی پوسٹس کو اے آئی کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں تلاش اور تجزیہ کیا جانے لگا تو سائبر فراڈ میں ملوث عناصر بھی صارفین کی معلومات سے فائدہ اٹھا کر انہیں زیادہ آسانی سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اپنے ذاتی ڈیٹا کو اے آئی سے بچانے کیلئے فیس بک پر لکھی پوسٹ کو پبلک بالکل نہ کریں بلکہ صرف اپنے دوستوں اور فالورز تک محدود رکھیں، جس کا طریقہ یہ ہے کہ فیس بک کی سیٹنگ میں جائیں اور ’لمٹ پاسٹ پوسٹس‘ کا ٹول استعمال کریں، اس عمل سے آپ کی تمام پرانی پبلک پوسٹس اونلی فرینڈز ہوجائیں گی۔

ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر ذاتی معلومات شیئر کرتے وقت احتیاط برتیں اور اپنی پرائیویسی سیٹنگز کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہیں تاکہ غیر ضروری معلومات عوامی طور پر دستیاب نہ ہوں۔