خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پالیسی کابینہ سے منظوری کے باوجود تاحال عملی مرحلے میں داخل نہیں ہو سکی، جبکہ پالیسی کے تحت اے آئی کونسل کا قیام اور ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر بھی مالی وسائل کی کمی کے باعث تعطل کا شکار ہے۔
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق اے آئی پالیسی پر عمل درآمد جون 2027 تک شروع ہونے کا امکان ہے، تاہم اس کے لیے درکار فنڈز کی دستیابی ضروری ہے۔
تفصیلات کے مطابق پالیسی کی منظوری کو تقریباً ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود اس کے تحت مجوزہ اے آئی کونسل قائم نہیں ہو سکی، اسی طرح مصنوعی ذہانت کے شعبے کے لیے ضروری انفراسٹرکچر، بالخصوص ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر بھی تاحال عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
رپورٹ کے مطابق نیشنل اے آئی ایکو سسٹم ڈیولپمنٹ پروگرام بھی ایک ارب امریکی ڈالر کے مطلوبہ فنڈز کی عدم دستیابی سے متاثر ہو رہا ہے، پروگرام کے تحت اے آئی انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے 400 ملین ڈالر جبکہ استعدادِ کار بڑھانے اور سکالرشپس کے لیے 30 ملین ڈالر درکار ہیں۔
اس کے علاوہ نیشنل اے آئی فنڈ کے لیے 200 ملین ڈالر مختص کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، اس فنڈ کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والے سٹارٹ اپس کو مالی معاونت فراہم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
اے آئی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم اور تربیت کے فروغ کے لیے سکالرشپس فراہم کرنے کا منصوبہ بھی تاحال مکمل شکل اختیار نہیں کر سکا، اس سلسلے میں دنیا کی 25 بہترین جامعات کے انتخاب کی ذمہ داری ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو دی جانی ہے، تاہم اس حوالے سے منصوبہ بندی ابھی مکمل نہیں ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ آئی ٹی نے اے آئی پالیسی اور اس سے متعلقہ پروگرامز پر عمل درآمد کے لیے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ مطلوبہ مالی وسائل حاصل کیے جا سکیں۔
وزارتِ آئی ٹی کے مطابق فنڈز کی دستیابی کے بعد جون 2027 سے پالیسی پر عمل درآمد شروع ہونے کا امکان ہے، مجوزہ منصوبوں میں اے آئی انفراسٹرکچر کی تعمیر، انسانی وسائل کی استعداد میں اضافہ، سکالرشپس کی فراہمی اور مقامی سٹارٹ اپس کی معاونت شامل ہیں۔