خلاصہ
- واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکا کی ریاست میساچوسٹس کے ڈاکٹروں نے ایک منفرد طبی کیس رپورٹ کیا، جس میں روزانہ ڈیڑھ لیٹر ڈائٹ سافٹ ڈرنک پینے سے ایک معمر خاتون کے معدے میں موجود سخت گانٹھ (گیسٹرک بیزور) مکمل طور پر تحلیل ہو گئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کیس نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع کیا گیا ہے، خاتون تقریباً ایک ماہ سے پیٹ کے اوپری حصے اور دائیں جانب شدید درد اور جلن کا شکار تھیں، تیزابیت کی عام ادویات استعمال کرنے کے باوجود ان کی حالت میں بہتری نہیں آئی۔
ڈاکٹروں نے بتایا کہ مریضہ ٹائپ ٹو ذیابیطس اور موٹاپے کا شکار تھیں اور وزن کم کرنے کے لیے سیماگلوٹائیڈ دوا استعمال کر رہی تھیں، جو جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگونسٹ ادویات کے گروپ سے تعلق رکھتی ہے، گزشتہ ایک سال کے دوران ان کا تقریباً 40 پاؤنڈ وزن کم ہوا، تاہم آخری ایک ماہ میں وزن میں غیر معمولی کمی نے ڈاکٹروں کو مزید معائنے پر مجبور کیا۔
اینڈوسکوپی کے ذریعے معلوم ہوا کہ مریضہ کے معدے میں ایک بڑی سخت گانٹھ موجود ہے، جو معدے کے خالی ہونے کے عمل میں سستی کے باعث ہضم نہ ہونے والے مواد کے جمع ہونے سے بنی تھی، اس کے بعد وزن کم کرنے کی دوا فوری طور پر بند کر دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایسے کیسز میں بعض اوقات سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے، تاہم ابتدائی مرحلے میں گانٹھ کو معدے ہی میں تحلیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اسی مقصد کے لیے ڈاکٹروں نے مریضہ کو ڈائٹ سافٹ ڈرنک استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔
ماہرین کے مطابق دستیاب شواہد کی بنیاد پر عام طور پر 12 گھنٹوں کے دوران تقریباً 3 لیٹر ڈائٹ سافٹ ڈرنک استعمال کرائی جاتی ہے، تاہم مریضہ کو کاربونیٹڈ مشروبات پسند نہ ہونے کے باعث یہ مقدار کم کر کے روزانہ ڈیڑھ لیٹر کر دی گئی۔
ڈاکٹروں کے مطابق علاج کے دوسرے روز مریضہ نے معدے میں ہلکی کھنچاؤ محسوس کی، جس کے فوراً بعد متلی اور درد ختم ہو گیا، بعد ازاں دوبارہ کی گئی اینڈوسکوپی سے تصدیق ہوئی کہ معدے کی سخت گانٹھ مکمل طور پر تحلیل ہو چکی تھی، جس کے باعث سرجری کی ضرورت پیش نہیں آئی۔