خلاصہ
- بیجنگ: (ویب ڈیسک) چین کے مشرقی صوبے جیانگ سو سے تعلق رکھنے والی 111 سالہ خاتون وانگ گائینگ نے لمبی اور صحت مند زندگی کا راز بتادیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وانگ گائینگ کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے کے باوجود میں خود کو بوڑھا محسوس نہیں کرتی کیونکہ میں اب بھی آسانی سے چل پھر سکتی ہوں، 100 سال کی عمر کے بعد بھی میں کھیتوں میں کام کرتی ہوں اور مونگ پھلی اور تربوز کی فصل کی کٹائی میں حصہ لیتی ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ میں آج بھی گھر کے متعدد کام خود کرتی ہوں جن میں میز صاف کرنا اور کپڑے تہہ کرنا شامل ہے جبکہ میرے گھر والے مجھے آرام کرنے کا کہتے ہیں۔
گائینگ وانگ کا کہنا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے جسم کو حرکت میں رکھنا بے حد ضروری ہے، میں گھریلو کاموں کو ورزش سمجھتی ہوں اور اسے جسم کے اعضاء کو متحرک رکھنے اور خون کی روانی بہتر بنانے کا ذریعہ قرار دیتی ہوں۔
رپورٹس کے مطابق گائینگ وانگ نے بتایا ہے کہ میری روزمرہ کی روٹین میں سادہ غذاء شامل ہے، گھر والے میرے کھانے میں تبدیلی کرتے رہتے ہیں، مجھے مچھلی سب سے زیادہ پسند ہے کیونکہ یہ نرم اور ہضم کرنے میں آسان ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں کسی سخت غذائی اصول کی پابندی نہیں کرتی تاہم کم کھانے اور مختلف غذائیں استعمال کرنے کو ترجیح دیتی ہوں۔
گائینگ وانگ نے طویل اور صحت مند زندگی کے لیے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ غصے سے بچنا اور دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا بھی لمبی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، میں جھگڑوں اور پریشانیوں کو ذہن پر سوار کرنے کے بجائے پرسکون نیند کو ترجیح دیتی ہوں۔
رپورٹس کے مطابق گائینگ وانگ روزمرہ کی زندگی میں باقاعدہ طے شدہ شیڈول پر عمل کرتی ہیں، وہ عموماً رات 7 بجے سوتی اور صبح 7 بجے بیدار ہوتی ہیں جبکہ دن میں 1 یا 2 مرتبہ مختصر نیند بھی لیتی ہیں۔
روگاؤ شہر کو چین میں طویل عمر پانے والے افراد کی بڑی تعداد کے باعث جانا جاتا ہے، رواں سال فروری تک یہاں 100 سال یا اس سے زائد عمر کے 672 افراد موجود تھے۔