انسان تو انسان، پرندے بھی جھوٹ بولنے لگے، سائنسدان بھی حیران

انسان تو انسان، پرندے بھی جھوٹ بولنے لگے، سائنسدان بھی حیران

العربیہ ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق ڈرونگو نامی یہ پرندہ مختلف پرندوں اور جانوروں کی آوازیں نکالنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے، وہ اس مہارت کو محض نقل اتارنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی خوراک حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔

ڈرونگو خاص طور پر میرکاٹ نامی چھوٹے جانوروں کو اپنے دھوکے کا نشانہ بناتا ہے، میرکاٹ عموماً گروہوں کی صورت میں رہتے ہیں اور خطرہ محسوس ہونے پر مخصوص آوازیں نکال کر اپنے ساتھیوں کو خبردار کرتے ہیں۔

ڈرونگو انہی آوازوں کی نقل کرتا ہے، جب میرکاٹ کو خطرے سے خبردار کرنے والی آواز سنائی دیتی ہے تو وہ کسی شکاری کی موجودگی کا گمان کرتے ہوئے اپنی خوراک چھوڑ کر محفوظ مقام کی طرف بھاگ جاتے ہیں، اس دوران ڈرونگو موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کا چھوڑا ہوا کھانا کھا لیتا ہے۔

اس پرندے کی حیران کن صلاحیت یہ ہے کہ وہ ایک ہی آواز پر انحصار نہیں کرتا بلکہ مختلف جانوروں اور پرندوں کی آوازیں نکالتا رہتا ہے، سائنسدانوں نے تحقیق کے دوران اس کی 50 سے زائد مختلف آوازیں ریکارڈ کی ہیں۔

جانوروں کی دنیا میں دھوکہ دینے کی دیگر مثالیں بھی موجود ہیں۔ بعض کیڑے پھولوں جیسی شکل اختیار کرکے شکار کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، جبکہ کچھ تتلیوں کے پروں پر آنکھوں سے مشابہ نشانات ہوتے ہیں، جو شکاریوں کو خوف زدہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

تاہم ڈرونگو کا رویہ ان مثالوں سے مختلف ہے، کیونکہ وہ حالات اور دوسرے جانوروں کے ردعمل کے مطابق اپنی آواز تبدیل کرتا ہے۔

ماہر حیوانیات جیمز اوہانلون نے اپنی 2026 میں شائع ہونے والی کتاب ’لائرز، چیٹرز اینڈ میمز‘ میں جانوروں کے ایسے ہی دلچسپ رویوں کا ذکر کیا ہے، ڈولفن، وہیل، چیونٹیوں، دیمک اور جنگلی کتوں میں بھی ایسے رویے دیکھنے کو مل سکتے ہیں جن کے ذریعے وہ دوسرے جانداروں کو گمراہ کرتے ہیں۔

اگرچہ ڈرونگو کی یہ صلاحیت بظاہر انسانوں کے جھوٹ بولنے سے مشابہت رکھتی ہے، تاہم سائنسدان اسے براہ راست انسانی معنوں میں جھوٹ قرار دینے سے گریز کرتے ہیں، جانوروں کے رویوں کو انسانی سوچ اور شعور کے پیمانے پر پرکھنا درست نہیں، اس لیے اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔