چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت

چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت

عدالت نے انہیں رشوت لینے، سرکاری فنڈز میں خردبرد کرنے، رشوت دینے، عوامی رقوم کے غلط استعمال کرنے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ کا بھی مجرم قرار دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق 1993ء سے 2023ء کے درمیان یانگ یولین نے منصوبوں کی منظوری، کاروباری سہولت، زمین کی الاٹمنٹ اور سرمایہ فراہم کرنے کے بدلے بھاری رقوم اور قیمتی اثاثے وصول کیے۔

عدالت کے مطابق ملزم نے اپنے آخری بیان میں جرم کا اعتراف کرتے ہوئے ندامت کا اظہار کیا تھا۔

مقدمے کی سماعت مارچ اور اپریل میں ہوئی جبکہ عدالت نے ان کی تمام ذاتی جائیداد ضبط کرنے اور رشوت کی مکمل رقم واپس لینے کا بھی حکم دیا ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران چین میں بدعنوانی کے مقدمات میں سزائے موت سنانے کا یہ ایک نمایاں کیس ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس سے قبل 2021ء میں لائی شیاومن اور 2024ء میں لی جیان پنگ کو بھی بدعنوانی کے مقدمات میں سزائے موت دی جا چکی ہے۔