خلاصہ
- کربلا: (دنیا نیوز) ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا جسد خاکی عراق کے مقدس شہر نجف سے کربلا منتقل کر دیا گیا، جہاں روضۂ حضرت امام حسینؑ پر لاکھوں سوگواروں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور نماز جنازہ، فاتحہ خوانی، نوحہ و مرثیہ خوانی کا سلسلہ جاری رہا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس سے قبل شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جسد خاکی کو نجف اشرف لایا گیا، جہاں حضرت علیؑ کے روضے پر لاکھوں عزاداروں کی موجودگی میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔
بعد ازاں جلوس کی صورت میں جسد خاکی کربلا منتقل کیا گیا، جہاں روضۂ حضرت امام حسینؑ پر بھی نماز جنازہ ادا کی گئی اور رات بھر سوگ کی مختلف تقریبات جاری رہیں۔
نجف اور کربلا میں منعقد ہونے والی نماز جنازہ اور جلوس میں ایران کے صدر مسعود پزیشکیان، عراق کے وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ عزادار ایران اور عراق کے قومی پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔
سرکاری شیڈول کے مطابق شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا جسد خاکی کل جمعرات کو ایران واپس لایا جائے گا، جہاں ان کے آبائی شہر مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای اپنے خاندان کے چند افراد اور عسکری قیادت کے ارکان سمیت شہید ہوئے تھے، تاہم اس وقت تجہیز و تکفین عمل میں نہیں لائی گئی تھی۔