خلاصہ
- تہران: (دنیا نیوز) ایران میں صدر اور حکومتی ادارے موجود ہیں لیکن جنگ اور آبنائے ہرمز سے متعلق اہم فیصلوں میں پاسداران انقلاب اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار سب سے زیادہ نمایاں نظر آرہا ہے۔
عرب ٹی وی کے مطابق ایرانی حکومت اسے مکمل ریاستی اتحاد قرار دیتی ہے جبکہ امریکا اسے قیادت کے بحران کے طور پر پیش کرتا ہے، امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران کی قیادت اندرونی اختلافات کا شکار ہے تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے ریاستی پالیسی کے معاملات میں مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔
جنگ کے آغاز سے ایران میں فوجی اور سکیورٹی کمانڈروں کے گروپ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے، یہ حلقہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر متحد دکھائی دیتا ہے اور امریکا کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کے حق میں ہے۔
اس گروپ کے اہم ارکان میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر، مشترکہ جنگی کمانڈ کے سربراہ اور پاسداران انقلاب کے نیول چیف شامل ہیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان حکومتی امور کی نگرانی کرتے ہیں، جنگی معاملات میں ان کا اثر و رسوخ فوجی و سکیورٹی حلقوں کے مقابلے میں محدود ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سفارتکاری کے معاملات دیکھتے ہیں، سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر کم نظر آئے ہیں تاہم انہیں اپنے والد جیسا اثر و رسوخ حاصل نہیں جو تمام بڑے فیصلوں میں حتمی اختیار رکھتے تھے۔