خلاصہ
- ریاض: (ویب ڈیسک) سعودی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر ایمبیسیڈر ڈاکٹر رائد قرملی نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط گہرے تاریخی اور سٹریٹیجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور کئی برسوں تک جاری رہنے والے تفصیلی مذاکرات کے بعد طے پایا ہے۔
ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ میں لکھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد تینوں بانی ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، دفاعی تیاری بڑھانے کے ساتھ سٹریٹیجک دفاعی صلاحیتوں کو ترقی دینا اور ان کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو درپیش کسی بھی خطرے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے واضح کیا معاہدے کا مقصد کسی فوجی اتحاد یا فرقہ وارانہ یا مسلکی بلاک کے قیام کی جانب کوئی پیش رفت نہیں ہے اور نہ ہی اس کا تعلق جوہری عزائم یا خطے میں اسلحے کی دوڑ سے ہے، بلکہ اس کا مقصد پائیدار خود انحصار صلاحیتوں کی ترقی ہے۔
ڈاکٹر رائد قرملی نے کہا یہ معاہدہ خلیجی، عرب اور بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کے مضبوط اور سٹریٹجک تعلقات کی قیمت پر نہیں ہے، یہ خطے کے کسی ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور نہ کسی دو ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔