خلاصہ
- صنعا: (ویب ڈیسک) یمن کی فوج نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے شہر مدینہ میں بجلی کی تنصیب پر حوثی ملیشیا کے ڈرون حملے کے چند گھنٹے بعد دارالحکومت صنعا سمیت مختلف علاقوں میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے مدینہ میں بجلی کے پاؤر سٹیشن کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا، جو مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والی تنصیبات میں شامل ہے، مملکت پر اس حملے کی متعدد اسلامی اور عرب ممالک کی جانب سے مذمت بھی کی گئی ہے۔
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ طیبہ پاؤر سٹیشن کو 29 ستمبر کی صبح نشانہ بنایا گیا، تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ حوثی ملیشیا نے اس بزدلانہ دہشت گرد کارروائی کی منصوبہ بندی کی اور اسے عملی جامہ پہنایا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ حکام نے حملے کے بعد آپریشنل جائزہ لیا اور ڈرون کے ملبے کا بھی معائنہ کیا تاکہ حملے کے ماخذ کی تصدیق کی جا سکے۔
ادھر یمنی فوج نے بتایا ہے کہ اس نے صنعا، صعدہ اور تعز میں حوثیوں کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا، صنعا میں اہم اہداف کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ صعدہ میں 11 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تعز میں حوثیوں کے ایک مربوط فوجی نظام پر 27 فضائی حملے کیے گئے۔
گزشتہ ماہ اتحادی افواج نے کہا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے مکہ کی سمت بھیجا گیا ایک ڈرون شہر سے باہر مار گرایا گیا، جسے اتحادی افواج نے ریڈ لائن قرار دیا تھا۔
سنہ 2017 میں بھی سعودی فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے مکہ کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا۔
حوثی ملیشیا صنعا اور یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے، سعودی عرب کی جانب سے سنہ 2015 میں یمن کی خانہ جنگی میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کے بعد سے حوثی بارہا سعودی عرب پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملے کر چکے ہیں۔