ایران کے پاس ایسا کوئی نہیں ہے جس سے مذاکرات کیے جائیں: ٹرمپ

ایران کے پاس ایسا کوئی نہیں ہے جس سے مذاکرات کیے جائیں: ٹرمپ

امریکی ریاست الاباما کے ساحلی شہر موبائل میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے سوال اٹھایا کہ واشنگٹن تہران میں آخر کس سے مذاکرات کرے؟ ان کے پاس ایسا کوئی نہیں ہے جس کے ساتھ معاملات طے کیے جائیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایران جنگ بہت جلد، ممکنہ طور پر انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو سکتی ہے، تاہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے پاس بحریہ، فضائیہ، ریڈار یا طیارہ شکن دفاعی نظام موجود نہیں، تقریباً 310 فیصد افراطِ زر کے باعث ایرانی معیشت بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کی امریکی بحری ناکہ بندی کو فولادی دیوار قرار دیا اور کہا کہ جنگ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی، انہوں نے کہا کہ امریکا جلد ہی اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں دوبارہ تیل ذخیرہ کرنا شروع کر دے گا۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ یہ تنازع نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے دوران یا ان کے فوراً بعد ختم ہو سکتا ہے۔

یکم اکتوبر کو صحافیوں سے گفتگو میں بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران اچھی حالت میں نہیں ہے اور یہ جنگ زیادہ طویل عرصے نہیں چلے گی۔

ادھر وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی تہران پر دباؤ برقرار رکھنے کے اشارے دیے جاتے رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ ایران کی تازہ امن تجویز کو ناکافی قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔