فرانس میں احتجاج میں شدت، طلبہ رہنماؤں کا مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان

فرانس میں احتجاج میں شدت، طلبہ رہنماؤں کا مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان

احتجاج کا دائرہ تعلیمی اداروں سے نکل کر مزدور یونینوں اور یلو ویسٹ تحریک کے کارکنوں تک پھیل گیا ہے، جس سے صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کے لیے سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

حکومت نے سکولوں میں بعض کلاسوں کے حجم کو محدود کرنے، تعلیمی عمارتوں کی تزئین و مرمت کے لیے چار ارب یورو کے قرضوں اور جامعات میں داخلوں کے نظام میں تبدیلی سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے، حکام کے مطابق ملک بھر میں مظاہروں کے دوران ایک ہزار چار سو پینتیس افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ کاروباری حلقوں نے احتجاج اور تشدد کے باعث فروخت میں نمایاں کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں احتجاج کا اگلا بڑا مرحلہ پانچ نومبر کو متوقع ہے۔