خلاصہ
- کوئٹہ: (دنیا نیوز) گرین پاکستان انیشیٹو (GPI) کے تحت بلوچستان میں زرعی ترقی اور مقامی زمینداروں کی خوشحالی کے لیے اہم منصوبے کامیابی سے مکمل کر لیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑ بنجر زمین کو قابلِ کاشت بنایا گیا ہے۔
گرین پاکستان انیشیٹو کے فیز ون کے تحت دکی، قلعہ سیف اللہ اور سبی میں 3 ہزار 800 ایکڑ زمین قابلِ کاشت بنائی گئی، جبکہ اس مقصد کے لیے 144 شمسی ٹیوب ویل بھی نصب کیے گئے۔
فیز ٹو کے تحت کوہلو، بارکھان، چمن، نوشکی، ڈیرہ بگٹی، ژوب، مستونگ، کوئٹہ اور قلعہ سیف اللہ میں مزید 8 ہزار 481 ایکڑ زمین کو قابلِ کاشت بنایا گیا۔
فیز ون اور فیز ٹو کے منصوبوں کے ذریعے مجموعی طور پر 12 ہزار 281 ایکڑ زمین کو زرعی مقاصد کے لیے قابلِ استعمال بنایا گیا، جس سے 288 مقامی زمیندار براہِ راست مستفید ہوئے ہیں۔
ان زرعی اراضی پر گندم، کپاس اور مختلف اقسام کے باغات کی کاشت جاری ہے، جس سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی پیداوار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت کیے جانے والے اقدامات سے بلوچستان کے مقامی زمینداروں کو جدید زرعی سہولیات میسر آ رہی ہیں، جبکہ بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے سے صوبے میں زرعی خودکفالت اور مقامی معیشت کے استحکام کی راہ بھی ہموار ہو رہی ہے۔
حکام کے مطابق زرعی شعبے کی ترقی سے نہ صرف مقامی زمینداروں کی معاشی حالت بہتر ہوگی بلکہ بلوچستان میں زرعی پیداوار، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔