خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا جس میں کاروبار میں آسانی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ریگولیٹری نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور کاروبار دوست بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں میں آسانی اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں، حکومت کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے اور غیر ضروری ضابطہ کاری کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) میں اصلاحات کے ذریعے اسے جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے، اسی طرز پر دیگر ریگولیٹری اداروں میں بھی اصلاحات لائی جائیں۔
انہوں نے ریگولیٹری رجسٹری تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں موجود تمام ریگولیٹری تقاضوں اور قواعد و ضوابط کو ایک جامع نظام کے تحت مرتب کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار میں آسانی کیلئے آسان کاروبار ایکٹ کو ملک بھر میں نافذ کیا جائے تاکہ تمام صوبوں میں ریگولیٹری نظام میں ہم آہنگی پیدا ہو اور کاروباری افراد کو یکساں سہولیات میسر آئیں۔
انہوں نے ریگولیٹری اصلاحات کے اثرات اور افادیت کا جائزہ لینے کیلئے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کرانے کی بھی ہدایت کی تاکہ اصلاحات کے عملی نتائج کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار میں آسانی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، سرمایہ کاروں کو سازگار اور سہل کاروباری ماحول فراہم کیے بغیر ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
وزیراعظم نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کی جانب سے کی گئی ریگولیٹری اصلاحات کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری کو اصلاحات سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ ان سے بھرپور استفادہ کر سکے۔
.jpg)
انہوں نے SIFC کے وفد کو تمام صوبوں کا دورہ کرنے اور صوبائی حکومتوں کو ریگولیٹری اصلاحات کے عمل میں اعتماد میں لینے کی ہدایت کی تاکہ ملک بھر میں کاروباری سہولت کاری اور ریگولیٹری نظام میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
وزیراعظم نے مشیر برائے صنعت ہارون اختر خان کو صوبوں کے دوروں کیلئے وفد کی قیادت کرنے اور ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو کابینہ کی جانب سے منظور شدہ اصلاحات پر بروقت عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی، انہوں نے SIFC اور چیف سیکریٹری پنجاب کو مارچ 2027 تک ای-بز پنجاب (eBiz Punjab) اور بی ایف سی اسلام آباد (BFC Islamabad) کے انضمام کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر کو پنجاب حکومت کی E-BIZ کی طرز پر جدید بنایا جا رہا ہے جبکہ ایکسپورٹ پالیسی آرڈر اور امپورٹ پالیسی آرڈر کو بھی سہل بنایا جا رہا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ SIFC ریگولیٹری ریفارمز کے حوالے سے تمام صوبوں، بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے رابطے میں ہے، کابینہ کی ریگولیٹری ریفارمز کمیٹی نے 7 ملٹی سیکٹرز میں 557 ریفارمز کی منظوری دی ہے، جن سے سالانہ 460 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بی ایف سی سے 8717 درخواستوں پر عمل درآمد شروع کیا گیا جن میں سے 71 فیصد مکمل کی گئیں جبکہ اسلام آباد بزنس فسیلیٹیشن مرکز سے 4612 نئے کاروباروں کو سہولیات فراہم کی گئیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ SIFC ریگولیٹری ریفارمز کے ساتھ ساتھ پالیسی گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی کام کر رہی ہے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، مشیر وزیراعظم برائے صنعت ہارون اختر، وزیر برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔