خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی۔
ایف بی آر کے مطابق سٹیل سیکٹر میں ٹیکس چوری روکنے اور پیداواری و ترسیلی اعداد و شمار میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے سٹیل مینوفیکچررز کو مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنا ہوگا، اس اقدام کا مقصد پیداوار اور فروخت کے ریکارڈ میں ممکنہ فرق کی نشاندہی کرنا ہے۔
ہدایت کے تحت سٹیل پگھلانے والے یونٹس، ری رولرز اور مشترکہ صنعتی اداروں کے لیے پیداواری نگرانی کا نظام نصب کرنا اور اسے فعال رکھنا لازمی ہوگا۔
ایف بی آر کے مطابق نئے نظام کے تحت سٹیل کی پیداوار، وزن، تعداد اور ترسیل کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے گا، تیار ہونے والی اسٹیل مصنوعات کی پیمائش اور تعداد کی نگرانی بھی اسی نظام کے ذریعے کی جائے گی۔
اس کے علاوہ اسٹیل مصنوعات کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبرز، مجموعی وزن اور خالص وزن کا ریکارڈ رکھنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جدید مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے اسٹیل کی پیداوار اور ترسیل کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا جا سکے گا، جس سے ریکارڈ میں تضادات اور ممکنہ ٹیکس چوری کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔
ادارے نے سٹیل مینوفیکچررز کو ہدایت کی ہے کہ مانیٹرنگ کے لیے درکار آلات اور سافٹ ویئر ایف بی آر کے منظور شدہ فراہم کنندگان سے حاصل کیے جائیں، مطلوبہ نگرانی اور ترسیل کا ریکارڈ مرتب کیے بغیر سٹیل مصنوعات کو صنعتی یونٹ سے باہر بھیجنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ایف بی آر کے مطابق مقررہ تاریخ تک مانیٹرنگ سسٹم نصب نہ کرنے، قواعد کی خلاف ورزی کرنے یا پیداوار چھپانے کی صورت میں متعلقہ صنعتی اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اس اقدام کو سٹیل سیکٹر میں ٹیکس وصولیوں کو بہتر بنانے، سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور صنعتی پیداوار کے ریکارڈ کو زیادہ شفاف بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔