خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار، ہاؤسنگ اور زراعت کی ترقی سے معیشت میں بہتری اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایسے بینکس جو زراعت، ہاؤسنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو حکومتی اقدامات کے تحت قرضوں کی آسان فراہمی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، قابل ستائش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے تحت کسانوں، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں اور وزیراعظم اپنا گھر اسکیم میں صارفین کو قرضوں کی فراہمی میں سست روی اختیار کرنے والے بینکس کے ساتھ اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کی طرف سے کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔
.jpg)
وزیراعظم نے کہا کہ نجی شعبے کی ترقی کے لیے بینکس کلیدی اہمیت کے حامل ہیں، ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں بینکوں سے ویسے ہی تعاون کی توقع رکھتے ہیں جیسا تعاون حکومت اور حکومتی ادارے بینکوں کے ساتھ کرتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار معیشت کی ترقی، برآمدات کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور استعداد رکھتے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ زراعت کا شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن سے برآمدات میں اضافے کے لیے کوشاں ہیں۔ اپنا گھر اسکیم سے ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبے سے منسلک کئی صنعتوں کو فروغ ملے گا۔
شہباز شریف نے وزیر خزانہ کو ایس ایم ای سیکٹر، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کے فنانسنگ سے متعلق مسائل حل کرنے اور جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے سٹیٹ بینک اور ایف بی آر کو مل کر چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں اور برآمد کنندگان کے ٹیکس مسائل حل کرنے جبکہ ایس ایم ایز کو قرضوں کی آسان فراہمی کے لیے رسک کوریج کی جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے لیے اسٹیٹ بینک تین بنیادی ستونوں پر کام کر رہا ہے، جن میں ضوابط میں بہتری، حکومت اور بینکوں کے درمیان رسک اور اخراجات میں شراکت داری اور ڈیجیٹل سہولیات کا فروغ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مالیاتی نظم و ضبط، برآمدات میں اضافے اور نجی سرمایہ کاری کا فروغ ناگزیر ہے: وزیر خزانہ
شرکا کو بتایا گیا کہ اس سلسلے میں ایس ایم ایز کے لیے ایس ایم ای کنیکٹ ڈیجیٹل پورٹل بھی شروع کیا گیا ہے، جس کے ذریعے کاروباری افراد قرضوں کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرانے کے ساتھ ان کی پیش رفت بھی دیکھ سکیں گے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 23 اکتوبر 2026 تک وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ مجموعی طور پر 86 ہزار 899 قرضوں کی منظوری دی گئی جبکہ 15 ہزار 584 درخواست گزاروں کو 91 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔
شرکا کو بتایا گیا کہ ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں قرضوں کا مجموعی حجم 455 ارب روپے اور مستفید ہونے والے قرض داروں کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار 317 ہو گئی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں قرضوں کا حجم ایک ہزار 329 ارب روپے اور مستفید ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 35 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
شرکا کو بریف کیا گیا کہ ایس ایم ایز کے شعبے میں قرضوں کا حجم ایک ہزار 148 ارب روپے جبکہ قرض حاصل کرنے والے کاروباری افراد کی تعداد 3 لاکھ 42 ہزار 458 ہو گئی ہے۔ مالی سال 2027 کے اختتام تک زرعی اور ایس ایم ای شعبوں میں قرضوں کا حجم 1500 ارب روپے تک پہنچانے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ای شعبوں کے لیے رسک شیئرنگ اور کریڈٹ گارنٹی کے اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں جبکہ قرضوں کے حصول کا طریقہ کار آسان بنانے، مطلوبہ دستاویزات میں کمی اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔
.jpg)
اجلاس میں تینوں ترجیحی شعبوں میں کمرشل بینکس کی کارکردگی کے اشاریے بھی پیش کیے گئے، وزیراعظم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بینکس کی تعریف کی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، میاں ریاض حسین پیرزادہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر نے اجلاس میں شرکت کی۔
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، ارکان قومی اسمبلی حفیظ الدین اور چوہدری افتخار نذیر سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام اور معروف کمرشل بینکس کے سربراہان و نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔