خلاصہ
- لاہور: (دنیا نیوز) حکومت پنجاب نے صوبے میں سٹیج ڈراموں اور تھیٹر پرفارمنسز کی نگرانی سخت کرنے اور باقاعدہ قانونی نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں پنجاب ڈرامیٹک اینڈ تھیٹریکل پرفارمنسز بل 2026 منظر عام پر آگیا ہے، جس کے تحت فنکاروں کی رجسٹریشن، ڈراموں کے سکرپٹ کی پیشگی منظوری اور تھیٹر کیلئے لائسنس حاصل کرنا لازمی ہوگا، مجوزہ بل رواں اجلاس میں پیش کیا گیا ہے اور متعلقہ کمیٹی کو موصول ہو چکا ہے۔
نئے قانون کا مقصد 150 سال پرانے ڈرامیٹک پرفارمنسز ایکٹ 1876 کو منسوخ کر کے تھیٹر اور ڈراموں کی نگرانی کیلئے جدید قانونی و انتظامی نظام قائم کرنا ہے۔
بل کے متن کے مطابق پنجاب میں کسی بھی عوامی مقام پر سٹیج ڈرامہ یا تھیٹر پرفارمنس پیش کرنے کیلئے متعلقہ سیکرٹری سے لائسنس حاصل کرنا ہوگا، جس کی فیس 25 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے، اسی طرح ڈرامہ پیش کرنے سے قبل اس کے سکرپٹ کی منظوری بھی لازمی ہوگی، جس کیلئے 35 ہزار روپے فیس ادا کرنا ہوگی۔
سکرپٹس کی جانچ پڑتال کیلئے سکرپٹ ریویو کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جنہیں محکمہ اطلاعات و ثقافت کا سیکرٹری نوٹیفائی کرے گا، ڈرامے کا مکمل سکرپٹ یا پرفارمنس کی تفصیلات پروگرام سے کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوں گی، منظور شدہ سکرپٹ سے ہٹ کر ڈرامہ پیش کرنا بھی جرم تصور ہوگا۔
مجوزہ قانون کے تحت ڈراموں میں کام کرنے والے تمام فنکاروں کی رجسٹریشن بھی لازمی قرار دی گئی ہے، صرف رجسٹرڈ فنکار ہی تھیٹر پرفارمنسز میں حصہ لے سکیں گے، جبکہ رجسٹریشن فیس 10 ہزار روپے تجویز کی گئی ہے، فنکاروں کی تعریف میں اداکاروں کے علاوہ میک اپ آرٹسٹ، کاسٹیوم ڈیزائنر، کوریوگرافر، پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور دیگر متعلقہ پیشہ ور افراد بھی شامل ہوں گے۔
بل میں فحش، غیر اخلاقی، توہین آمیز اور قابل اعتراض ڈراموں کے ساتھ مذہبی جذبات مجروح کرنے والی پرفارمنسز پر بھی پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس کے علاوہ اصل پرفارمنس سے کم از کم ایک روز قبل ریہرسل سنسرنگ کمیٹی کے سامنے پیش کرنا بھی ضروری ہوگا۔
مجوزہ قانون کے تحت تھیٹرز کی نگرانی کیلئے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی، جو خلاف ورزیوں کی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو پیش کریں گی، تحقیقات اور سماعت کے بعد پہلی خلاف ورزی پر 3 لاکھ روپے تک انتظامی جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، جبکہ دوبارہ خلاف ورزی پر 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی تجویز ہے۔
بل کے مطابق ایک سال کے اندر تین خلاف ورزیاں کرنے کی صورت میں تھیٹر کا لائسنس معطل یا منسوخ کیا جا سکے گا، غیر رجسٹرڈ فنکار کو پرفارمنس کی اجازت دینے پر بھی لائسنس معطل یا منسوخ کرنے کی کارروائی ہو سکے گی، جبکہ ایسے فنکار کو ڈرامے میں شامل کرنے پر متعلقہ تھیٹر یا مقام سیل کیا جا سکے گا۔
تھیٹر منتظمین کیلئے ہر پرفارمنس کی مکمل آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ رکھنا بھی لازمی ہوگا، مجوزہ قانون کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 6 ماہ تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا بھی تجویز کی گئی ہے، بل کی منظوری اور نفاذ کے بعد پنجاب میں ڈرامیٹک پرفارمنسز ایکٹ 1876 منسوخ ہو جائے گا اور اس کی جگہ نیا پنجاب ڈرامیٹک اینڈ تھیٹریکل پرفارمنسز قانون نافذ ہوگا۔