راولپنڈی میں رواں سال ڈینگی کیسز میں نمایاں کمی، صرف 54 مریض رپورٹ

راولپنڈی میں رواں سال ڈینگی کیسز میں نمایاں کمی، صرف 54 مریض رپورٹ

 محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ سال کی طرح رواں سال بھی ڈینگی کے باعث کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی، رواں سال ضلع راولپنڈی میں ڈینگی کے شبہ میں 5 ہزار 55 مریضوں کی سکریننگ کی گئی، جن میں سے 54 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی۔ ان میں سے 6 مریض اس وقت مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اکتوبر میں ڈینگی کے 21 مریض رپورٹ ہوئے، جبکہ ستمبر میں 27 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی، گزشتہ سال اکتوبر میں ڈینگی کے 928 مثبت کیسز کے مقابلے میں رواں سال مریضوں کی تعداد میں نمایاں کمی کو محکمہ صحت کی انسداد ڈینگی سرگرمیوں کا اہم نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ضلع راولپنڈی میں ڈینگی کی روک تھام کے لیے ضلعی اور تحصیل سطح پر مانیٹرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں اب تک ڈسٹرکٹ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کے 34 جبکہ تحصیل ایمرجنسی رسپانس کمیٹیوں کے 108 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جن میں انسداد ڈینگی اقدامات اور سرویلنس سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔

ڈینگی لاروا کی نشاندہی اور ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے بھی کارروائیاں جاری ہیں، لاروا کی موجودگی پر 2 ہزار 798 ایف آئی آرز درج کی گئیں، جبکہ ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 686 مقامات سیل کیے گئے اور 2 ہزار 331 چالان جاری کیے گئے۔ خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 31 لاکھ 56 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

ڈینگی سرویلنس کے لیے راولپنڈی میں 1400 ٹیمیں سرگرم ہیں، جن میں 415 آؤٹ ڈور اور 985 انڈور ٹیمیں شامل ہیں۔ سرویلنس کے دوران اب تک 54 لاکھ 53 ہزار 817 گھروں کی چیکنگ کی گئی، جس کے دوران ایک لاکھ 94 ہزار 624 گھروں میں ڈینگی لاروا کی موجودگی سامنے آئی۔

رپورٹ میں لکھا گیا کہ پوٹھوہار ٹاؤن کے علاقے کلیال میں ڈینگی لاروا کی سب سے زیادہ شرح ریکارڈ کی گئی، جہاں بریٹیو انڈیکس 321.75 رہا۔ ڈینگی لاروا کی زیادہ شرح والے علاقوں میں ڈھوک حسو شمالی، لکھن، ڈھوک بابو عرفان اور ہزارہ کالونی بھی شامل ہیں۔

محکمہ صحت کی جانب سے شہریوں کو ڈینگی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، گھروں اور اردگرد پانی جمع نہ ہونے دینے اور انسداد ڈینگی ٹیموں کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکام نے کہا کہ  ڈینگی کی روک تھام کے لیے سرویلنس، لاروا کی تلفی اور ایس او پیز پر عمل درآمد کی نگرانی جاری رکھی جائے گی۔