تازہ ترین
  • بریکنگ :- اتوارکو پشاور میں پارٹی کی کورکمیٹی کا اجلاس بلایا ہے ، عمران خان
  • بریکنگ :- پرسوں تاریخ مل جائے گی تاکہ سب جانے کی تیاری کرلیں،عمران خان
  • بریکنگ :- پرسوں تاریخ دوں گا کہ مارچ کب کرنا ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- 25سے29 مئی کےدرمیان لانگ مارچ کا فیصلہ کروں گا،عمران خان
  • بریکنگ :- اسلام آباد مارچ میں ہمارا ایک ہی مطالبہ ہوگا،عمران خان
  • بریکنگ :- اسمبلی کب تحلیل اور الیکشن کب ہوں گے؟صرف یہی مطالبہ ہوگا،عمران خان

جنید صفدر کے نام پر بھی پانچ آف شور کمپنیاں ہیں:فواد چودھری

Published On 03 October,2021 11:16 pm

اسلام آباد:(دنیا نیوز)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے پنڈورا پیپرز انکشاف پر کہا ہے کہ‏ مریم نوازکے بیٹے جنید صفدر کے نام پر بھی پانچ آف شور کمپنیاں ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ علی ڈار جو نواز شریف کے داماد ہیں کے نام آف شور کمپنی کے بعد اب نئی اطلاعات یہ ہیں کہ مریم نوز کے بیٹے جنید صفدر کے نام پر بھی پانچ آف شور کمپنیاں ہیں۔

فواد چودھری نے سوال پوچھا کہ اس خاندان کو کتنا پیسہ چاہئے؟۔

ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ شرجیل میمن اور اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار (جو نوازشریف کے داماد بھی ہیں) کی اپنی کوئی حیثیت نہیں،یہ نواز شریف اور زرداری کے پیسوں کے پہرے دار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پنڈورا لیکس سے نواز، زرداری کرپشن کے مزید پرت سامنے آۓ ہیں،قوم نے پہلے پانامہ اور اب پنڈورا میں ان کے چہروں سے نقاب اترتا دیکھا ہے۔

قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ پانامہ پیپرز نے بیرون ملک چھپائے گئے اثاثوں کو بے نقاب کیا، پنڈورا  لیکس میں ایسی تفصیلات آتی ہیں تو عمران خان کے موقف کوتقویت ملے گی۔امید ہے کہ یہ تحقیقات بھی شفافیت کے نئے راستے کھولیں گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ پانامہ پیپرز نے بیرون ملک چھپائے گئے اثاثوں کو بے نقاب کیا اور اب کہا جارہا ہے کہ آئی سی آئی جے کی ایک اور تحقیق سامنے آرہی ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا غریب ملکوں کے پیسے کی امیرملکوں میں چھپانے کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے جبکہ پنڈورا لیکس میں ایسی تفصیلات آتی ہیں تو عمران خان کے موقف کوتقویت ملے گی۔

 

فواد چودھری نے مزید کہا کہ امید ہے کہ یہ تحقیقات بھی پانامہ تحقیقات کی طرح شفافیت کے نئے راستے کھولے گی اور کرپشن کی حوصلہ شکنی کا ایک اور موجب بنیں گی۔