وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دہشتگردی کے شواہد کے حوالے سے بیان گمراہ کن قرار

Published On 12 January,2026 05:03 pm

اسلام آباد:(دنیا نیوز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دہشتگردی کے شواہد کے حوالے سے بیان گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا دانستہ طور پردہشتگردی کےخلاف قومی بیانیے میں ابہام پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں، سہیل آفریدی کا افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے شواہد طلب کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور افسوسناک ہے۔

پاکستان متعدد مواقع پرطالبان رجیم کو دہشتگردوں کی سہولت کاری کے مستند شواہد فراہم کرچکا ہے، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا یہ بیان کہ دیگر ہمسایہ ممالک نے افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی پر تذکرہ نہیں کیا جو حقائق کے منافی ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ افغانستان دہشتگرد تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور تمام پڑوسی ممالک بھی اِس کی دہشتگرد پالیسی سے تنگ ہیں،ایران سکیورٹی وجوہات کی بنا پر غیر قانونی افغان مہاجرین کو بے دخل کر رہا ہے،تاجکستان میں گزشتہ سال افغانستان سے ہونے والے دو مختلف حملوں میں 5 چینی ورکرز کی ہلاکت ہوئی۔

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فوکانگ نے خبردار کیا کہ افغان سر زمین میں ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد گروہ فعال اور پڑوسی ممالک پر حملوں میں ملوث ہیں، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں بشمول بین الاقوامی ذرائع ابلاغ شواہد کی بنیاد پر افغانستان کو دہشتگردی کا گڑھ قرار دے چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں داعش ، ٹی ٹی پی ، القاعدہ، جماعت انصاراللہ سمیت دیگر کالعدم دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں، افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی نے پاکستان پر حملے کیے جو بڑے خطرے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

2025 میں ٹی ٹی پی نے پاکستان میں تقریباً 600 حملے کیے، جن میں سے کئی پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیے۔

عالمی جریدے ’یوریشیا ریویو‘ کی رپورٹ
عالمی جریدے ’یوریشیا ریویو‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان بطور ایک عالمی دہشت گرد پناہ گاہ بن چکا ہے جس کے شواہد بھاری اور ناقابل تردید ہیں،طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان تیزی سے بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ واشنگٹن ڈی سی میں 2نیشنل گارڈز کا قاتل افغان شہری تھا جس کے افغانستان سےسرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس سے روابط تھے۔

عالمی جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ کی رپورٹ
افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، افغانستان میں ٹی ٹی سمیت متعدد دہشتگرد تنظیمیں موجود ہیں ،پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں 70فیصد افغانی شامل ہیں۔

دوسری جانب عالمی ماہرین کا کہنا تھا کہ مستند شواہد اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس پاکستان کے موقف کی عالمی سطح پر واضح تائیدکرتی ہیں، خارجی نور ولی ، بشیر زیب ، گل بہادر سمیت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستا ن کے اہم سرغنہ افغانستان میں موجود ہیں۔