وزیراعظم کا دورہ ماسکو... پاک، روس تعلقات کی نئی جہت

وزیراعظم کا دورہ ماسکو... پاک، روس تعلقات کی نئی جہت

یوکرین میں جاری فوجی آپریشن کے بعد عالمی سیاست میں جو تبدیلیاں آئی ہیں، انہوں نے توانائی، تجارت اور سفارتی توازن کے نئے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، ایسے ماحول میں اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان بڑھتا رابطہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

ماسکو میں کریملن کی راہداریوں تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا اور روسی صدرولادیمیر پوتن سے ملاقات رسمی تبادلۂ خیال سے کہیں بڑھ کر ہوگی، اس کے پس منظر میں دوطرفہ مفادات، توانائی ضروریات، مالیاتی انتظامات اور علاقائی استحکام جیسے عملی معاملات شامل ہیں، پاکستان کو سستی توانائی اور مستحکم سپلائی لائن درکار ہے، جبکہ روس نئی منڈیوں اور شراکت داروں کی تلاش میں ہے۔

پاک، روس تعلقات کی تاریخ محض سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہی، 1970 کی دہائی میں سوویت تعاون سے قائم ہونے والی پاکستان سٹیل ملز دونوں ممالک کے صنعتی اشتراک کی نمایاں علامت تھی، یہی منصوبہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اسلام آباد اور ماسکو کے تعلقات عملی بنیادوں پر بھی استوار ہو سکتے ہیں۔

سفارتی حلقوں میں یہ امکان بھی زیرِگردش ہے کہ پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے کسی مفاہمتی یادداشت یا تعاون کے نئے فریم ورک پر پیشرفت ہو سکتی ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ نہ صرف ایک تاریخی باب کی تجدید ہوگا بلکہ صنعتی بحالی اور دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ ممکنہ معاہدہ کاغذی اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات میں ڈھل سکے۔

اسی تناظر میں پاک، روس گیس پائپ لائن منصوبہ بھی قابلِ ذکر ہے، جو توانائی شعبے میں دیرینہ تعاون کی ایک اور مثال بن سکتا ہے، اگر ان دونوں منصوبوں میں ٹھوس پیشرفت ہوتی ہے تو موجودہ دورہ محض سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ عملی اقتصادی شراکت داری کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اس دورے کی سفارتی تیاریوں میں ماسکو میں پاکستان کے سفیرفیصل نیاز ترمذی کا کردار بھی نمایاں ہے، اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے شیڈول، کاروباری نمائندوں کی شمولیت اور دوطرفہ ایجنڈے کی ترتیب میں سفارتخانے کی متحرک سفارت کاری اس دورے کو عملی نتائج سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

دورے کا ایک اہم پہلو پاکستان، روس بزنس فورم بھی ہے، جس میں ‌پاکستان سے 90 کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں، جو سرکاری مذاکرات کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کو براہِ راست جوڑنے کا پلیٹ فارم فراہم کرے گا، اس فورم میں توانائی، زراعت، فارماسیوٹیکل، آئی ٹی اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر گفتگو متوقع ہے، اگر کاروباری برادری کو قابلِ عمل فریم ورک فراہم کیا گیا تو یہ فورم محض تصویری سرگرمی نہیں بلکہ دوطرفہ تجارت میں حقیقی اضافے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت اب بھی اپنی اصل صلاحیت سے کم ہے، بزنس فورم اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ حکومتی سطح کے معاہدے نجی سرمایہ کاری اور عملی منصوبوں میں تبدیل ہو سکیں۔

ایک اہم مگر کم زیرِبحث پہلو پاکستان اور روس کے درمیان ری ایڈمیشن معاہدہ بھی ہے، جو تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا، اس معاہدے کی تکمیل قانونی اور امیگریشن تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کو مضبوط بنا سکتی ہے۔

اسی طرح ویزا پالیسی ایک بڑا عملی مسئلہ ہے، روس میں پاکستانی کاروباری افراد کے لیے بزنس ویزا کے اجرا میں درپیش رکاوٹیں اور طلبہ ویزا کی سختی تجارت اور تعلیمی روابط کی رفتار کو متاثر کر رہی ہیں، اگر بزنس فورم کے اہداف کو عملی جامہ پہنانا ہے تو ویزا سہولت کاری کو ترجیح دینا ہوگی، سفارتی بیانات اپنی جگہ، مگر کاروبار اور تعلیم کے دروازے آسان کیے بغیر شراکت داری مکمل نہیں ہو سکتی۔

پاکستان کی خارجہ حکمتِ عملی اب یک رخی نہیں رہی، بیجنگ، واشنگٹن اور ماسکو، تینوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، امریکا کے ساتھ تعلقات کو ’’پیچیدہ‘‘ کہنے کے بجائے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک کثیرالجہتی اور حساس نوعیت کے حامل ہیں، ایسے میں روس کے ساتھ پیش رفت پاکستان کیلئے سفارتی توازن کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، نہ کہ کسی ایک بلاک کا انتخاب۔

ماسکو میں مقیم پاکستانی طلبہ سے وزیرِاعظم کی ملاقات اور افطار بھی نرم سفارت کاری کا پہلو رکھتی ہے، روسی جامعات میں زیرِتعلیم پاکستانی نوجوان مستقبل کے سفارتی اور تجارتی پل ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ پالیسی سطح پر سہولت کاری کو یقینی بنایا جائے۔

یہ دورہ امکانات سے بھرپور ضرور ہے، مگر اصل امتحان معاہدوں کو عملی شکل دینے کا ہوگا، توانائی، تجارت، بزنس فورم، ری ایڈمیشن معاہدہ اور ویزا پالیسی، یہی وہ نکات ہیں جو پاک، روس تعلقات کی حقیقی سمت کا تعین کریں گے۔

ماسکو کی سرد فضاؤں میں ہونے والی یہ ملاقاتیں مستقبل کی سمت کا تعین کر سکتی ہیں، اگر توانائی، صنعت اور تجارت کے شعبوں میں عملی پیشرفت ہوئی تو یہ دورہ تاریخ ساز ثابت ہو سکتا ہے اور پاک، روس تعلقات کو ایک نئی جہت دے سکتا ہے۔