خلاصہ
- اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) وفاقی بجٹ بالآخر کل پیش کر دیا جائے گا، بجٹ کی تاریخ دو مرتبہ تبدیل کی گئی کیونکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے اور اس مرتبہ بجٹ میں سب سے بڑا ایشو این ایف سی فارمولا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام تھے۔
گزشتہ برس کا 722 ارب روپے کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جو تقریباً سوا آٹھ سو ارب روپے تک جاتا دکھائی دے رہا ہے، ہمیشہ کی طرح وفاق کے ذمہ ہوتا ہے، دوسری جانب ملک بھر سے ٹیکس اکٹھا کرنے اور صوبوں کا ساڑھے ستاون فیصد حصہ ادا کرنے کے بعد وفاق کے پاس قرضوں پر سود کی ادائیگی کے سوا کچھ نہیں بچتا۔
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کے مشرقی اور مغربی بارڈرز پر ٹینشن ہے، ملک کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، مگر یہ ضرورت پوری کرنے کیلئے وفاق کے پاس رقم ہی نہیں بچتی، حکومت کی خواہش تھی کہ بجٹ سے قبل این ایف سی کے معاملے پر کوئی نہ کوئی تبدیلی عمل میں لائی جا سکے تاکہ وفاق کے پاس سٹریٹجک معاملات سمیت دیگر اہم ترین امور کیلئے رقم بچ سکے، این ایف سی کے موجودہ سٹرکچر کے حوالے سے آئینی رکاوٹ یہ ہے کہ این ایف سی کی تشکیلِ نو میں صوبوں کا حصہ بڑھایا تو جا سکتا ہے، کم نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت کی قانونی ٹیم نے آئین کی ان شقوں میں ترمیم کی تجویز دی تو پاکستان پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کی جو اس نے 27 ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی کی تھی، پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم حکومت کیلئے ممکن نہیں مگر دوسری جانب وفاق کیلئے معاشی تنگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، یہی وجہ ہے کہ بجٹ کی تاریخ طے ہونے سے قبل حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان کئی مذاکراتی نشستیں ہوئیں۔
وزیراعظم کو حکومتی ٹیم کے ہمراہ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کرنا پڑی جس کے بعد حل یہ نکلا کہ فی الحال 28 ویں ترمیم کے ذریعے فوری طور پر این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی بجائے وفاق کو درکار رقم ایک عارضی بندوبست کے تحت دے دی جائے، اس بات پر اتفاق ہوا کہ این ایف سی میں صوبوں کا شیئر گزشتہ برس کی سطح پر منجمد کر دیا جائے یعنی رواں مالی سال ٹیکس وصولیوں میں تقریباً 2200 ارب روپے کا جو اضافہ ہوگا صوبے اس میں سے اپنا حصہ نہیں لیں گے۔
یوں محصولات کی گزشتہ برس کے مقابلے میں اس مرتبہ جو اضافی رقم ہوگی وہ گرانٹس کی صورت میں وفاق کے پاس رہے گی، این ایف سی سے شیئر کیلئے آئندہ مالی سال کا ٹیکس ٹارگٹ 15264 ارب روپے ہوگا یوں رواں مالی سال کی نسبت آئندہ مالی سال کے ٹیکس ہدف میں 2259 ارب روپے کا اضافہ ہوگا، اس 2259 ارب روپے میں سے تقریباً ایک ہزار سے 1200 ارب روپے صوبوں کا حصہ وفاق کے پاس رہے گا۔
اس طرح وفاق کو پنجاب سے 600 ارب روپے کے لگ بھگ فراہم کیے جانے کا امکان ہے، سندھ سے 310 ارب روپے، بلوچستان سے 85 ارب روپے ملیں گے جبکہ خیبر پختونخوا سے 180 ارب روپے ملنے کی توقع ہے، مگر خیبر پختونخوا نے اس معاملے کو بانی پی ٹی آئی کی ملاقات سے مشروط کیا گیا ہے، تاہم امید کی جا رہی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اس معاملے میں زیادہ رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔
اگرچہ یہ رقم گرانٹس کی مد میں ملے گی جسے واپس کرنا ہوگا مگر ماہرین کا خیال ہے کہ این ایف سی کو گزشتہ برس کی سطح پر منجمد کرنے کے بعد وفاق کیلئے جو آپشن نکالا گیا ہے وہ ایک ایسی نظیر بن جائے گی جسے مستقبل میں بھی استعمال کیا جا سکے گا، یوں پیپلز پارٹی کا آئینی ترمیم کر کے این ایف سی سمیت 18 ویں ترمیم کی بہت سی شقیں فوری طور پر رول بیک نہ کرنے کا مطالبہ بھی مان لیا گیا اور وفاق کو درکار رقم بھی مل گئی۔
آئندہ مالی سال کیلئے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے، نئے بجٹ میں پی ایس ڈی پی کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، طے پایا ہے کہ وفاق اور صوبے مل کر ترقیاتی بجٹ میں 1046 ارب روپے کی بچت کریں گے، وفاق نے 126 ارب روپے جبکہ صوبوں نے 920 ارب روپے کی کٹوتی پر اتفاق کیا ہے، مگر شہرِ اقتدار میں ابھی بھی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ موجودہ صورتحال میں چونکہ بجٹ سر پر تھا اور مجبوری میں ایسا انتظام کرنا پڑا لیکن 28 ویں آئینی ترمیم کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا کیونکہ ملک کے انتظامی اور معاشی مسائل کے حل کیلئے آئین کی بہت سی شقوں میں تبدیلی ناگزیر قرار دی جا رہی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام صوبوں کے حوالے کرنے کی سخت مخالف ہے اور بلاول بھٹو اس حوالے سے واضح کر چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت کو مجبوری میں پیپلز پارٹی کا یہ مطالبہ ماننا پڑا اور 800 ارب روپے سے زائد کے اخراجات اب بھی وفاق ہی کو اٹھانے ہوں گے، مگر حکومتی ذرائع کہتے ہیں کہ آئندہ مالی سال تک وفاق اسے صوبوں کو منتقل کر سکتا ہے کیونکہ آئی ایم ایف بھی یہی چاہتا ہے کہ یہ بوجھ وفاق کی بجائے صوبے اٹھائیں۔
موجودہ حالات میں عوامی بجٹ دینا تو ایک بڑا چیلنج ہو گا مگر رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں ٹیکسوں میں کمی ہونے کا قوی امکان ہے جس سے ملک میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کچھ بہتری آ سکتی ہے، تنخواہ دار طبقے کو بھی ٹیکس میں ریلیف دینے کی تجاویز تیار کی گئی ہیں، ماہانہ ایک سے تین لاکھ روپے تنخواہ والوں کیلئے ورکنگ کی گئی ہے جبکہ ٹیکس سلیبز چھ سے بڑھا کر آٹھ کی جا رہی ہیں، سالانہ 12 لاکھ، 22 لاکھ اور 32 لاکھ روپے آمدن والوں کیلئے ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجاویز ہیں، ایک کروڑ یا اس سے زائد سالانہ آمدن والوں پر 10 فیصد سرچارج ختم کرنے کی بھی تجویز ہے، تاہم یہ کمی آئی ایم ایف کی اجازت سے مشروط ہے، نئے سال کے بجٹ میں سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس لگائے جانے کا امکان ہے۔
گزشتہ روز ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کیلئے شرح نمو چار فیصد رکھنے کی منظوری دی گئی جبکہ نئے مالی سال کیلئے مہنگائی میں اضافے کی شرح 8.2 فیصد مقرر کرنے کی منظوری دی گئی ہے، حکومت کے اعداد و شمار اور اہداف اپنی جگہ مگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال خراب رہی تو آنے والا مالی سال معاشی طور پر مزید مشکلات لا سکتا ہے۔