خلاصہ
- لاہور: (محمد علی) ہر سال 21 جولائی کو دنیا بھر میں جنک فوڈ ڈے (Junk Food Day) منایا جاتا ہے، اس دن کا مقصد صرف جنک فوڈ کا ذکر کرنا نہیں بلکہ عوام خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کو اس کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا اور صحت مند غذا کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔
جنک فوڈ کی اصطلاح ایسے کھانوں کیلئے استعمال ہوتی ہے جن میں کیلوریز تو بہت زیادہ پائی جاتی ہیں لیکن غذائیت بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، 1950ء کی دہائی میں امریکہ میں مقبول ہونے والا یہ لفظ بڑے پیمانے پر ان کھانوں کیلئے استعمال ہوتا ہے جن میں شکر، چکنائی اور نمک کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔
آج کے تیز رفتار دور میں برگر، پیزا، فرائز، کولڈ ڈرنکس، چپس اور دیگر فاسٹ فوڈ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں حالانکہ ان کا مسلسل استعمال کئی خطرناک بیماریوں کو جنم دیتا ہے، جنک فوڈ میں چکنائی، نمک، چینی اور کیلوریز کی مقدار بہت زیادہ جبکہ وٹامنز، فائبر اور معدنیات نہایت کم ہوتے ہیں، اس کا مسلسل استعمال جسم میں چربی بڑھاتا ہے، وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے اور قوتِ مدافعت کو کمزور کرتا ہے، بچوں میں جسمانی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے، دانت خراب ہوتے ہیں اور پڑھائی میں توجہ کم ہو جاتی ہے، جبکہ نوجوانوں میں تھکن، سستی، ذہنی دباؤ اور مختلف دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
جنک فوڈ کا رجحان
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جنک فوڈ کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے قصبوں میں بھی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کی تعداد بڑھ رہی ہے اورنوجوان اپنے جیب خرچ کا بڑا حصہ فاسٹ فوڈ ریستورانوں میں کھانے پر خرچ کر رہے ہیں، جیسے جیسے ملک میں فاسٹ فوڈ کا کاروبار فروغ پا رہا ہے سکول کے بچے، کالج اور یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ ساتھ نوجوان ملازمین بھی جنک فوڈ ریستورانوں میں لنچ کرنا پسند کرتے ہیں، یہ ایک ایسی عادت ہے جس کا تعلق کبھی صرف بالائی متوسط طبقے یا اشرافیہ سے تھا لیکن اب ایک نئی شہری ثقافت کا حصہ بن چکا ہے۔
نوجوانوں کی بدلتی ہوئی عادات کے ساتھ فاسٹ فوڈ کے کاروبار میں بھی تیزی آئی ہے اور متعدد بین الاقوامی فاسٹ فوڈ چینز بھی آچکی ہیں، یہ تبدیلی 1990ء کی دہائی کے آخر میں شروع ہوئی جب ہر طبقے کے لوگ خاص طور پر نوجوانوں میں فاسٹ فوڈ کے رجحان نے فروغ پایا، حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا کے انقلاب نے اس رجحان میں مزید اضافہ کیا کیونکہ بہت سے سوشل میڈیا پروفائلز کو شیئر کرنے کیلئے ایسی تصویروں کی ضرورت ہوتی ہے جن میں انہیں اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتے یا کھانا کھاتے دیکھا جا سکے۔
آن لائن فوڈ ڈیلیوری، سوشل میڈیا اشتہارات اور بدلتا ہوا طرزِ زندگی نوجوان نسل کو غیر صحت بخش غذا کی طرف راغب کر رہا ہے مگر اس کے نتیجے میں موٹاپا، ذیابیطس،ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو مستقبل میں صحت کے نظام پر مزید بوجھ ڈال سکتا ہے۔
اس صورتحال میں والدین کو چاہیے کہ بچوں کو شروع ہی سے متوازن غذا کی عادت ڈالیں، گھر میں تازہ کھانا، پھل، سبزیاں، دودھ، دہی اور دالوں کا استعمال بڑھائیں اور فاسٹ فوڈ کو صرف کبھی کبھار تک محدود رکھیں، نوجوانوں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ وقتی ذائقہ صحت کا متبادل نہیں ہو سکتا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند، پانی کا زیادہ استعمال اور صحت بخش خوراک ہی ایک توانا اور کامیاب زندگی کی ضمانت ہیں۔
صحت مند پاکستان کی جانب ایک قدم
حکومت، تعلیمی اداروں، میڈیا اور والدین کو مل کر جنک فوڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا، سکولوں اور کالجوں میں غذائیت سے متعلق آگاہی پروگرام منعقد کئے جانے چاہئیں، کینٹینوں میں صحت بخش غذائیں فراہم کی جائیں اور عوام کو متوازن خوراک کی اہمیت سے روشناس کرایا جائے۔
صحت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اگر ہم اپنی خوراک کے بارے میں درست فیصلے کریں، جنک فوڈ کے استعمال کو محدود کریں اور صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں تو نہ صرف اپنی بلکہ آنے والی نسلوں کی صحت بھی محفوظ بنا سکتے ہیں۔