رحم کرنے والوں پر رحمٰن کی رحمت!

رحم کرنے والوں پر رحمٰن کی رحمت!

آٹا، چینی، گھی، بجلی، گیس اور تعلیم و علاج جیسے اخراجات نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، ایسے حالات میں انسان کا ذہن اکثر اپنی ذات کے گرد محدود ہو جاتا ہے، اور وہ صرف اپنی بقا کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

اسلام اس صورت حال میں انسان کو صرف صبر کی تلقین نہیں کرتا بلکہ ایک متوازن اور عملی نظام پیش کرتا ہے، یہ نظام فرد کو معاشرے سے جوڑتا ہے، اسے ذمہ داری کا احساس دیتا ہے، اور اجتماعی فلاح کی طرف رہنمائی کرتا ہے، انہی تعلیمات میں ایک بنیادی اصول صلہ رحمی ہے، جو دراصل خاندانی اور سماجی ڈھانچے کو مضبوط رکھنے کا ذریعہ ہے۔

اسلامی نقطۂ نظر یہ ہے کہ انسان اکیلا نہیں بلکہ ایک وسیع نظام کا حصہ ہے، اس کے اعمال کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ خاندان، محلہ اور پورے معاشرے تک پھیلتا ہے، اسی لیے مشکل حالات میں رشتہ داروں کا خیال رکھنا، ان کی مدد کرنا، اور ان کے ساتھ تعلق کو برقرار رکھنا نہایت اہم قرار دیا گیا ہے، مہنگائی کے دور میں جہاں ہر شخص اپنی مشکلات میں گھرا ہوتا ہے، وہاں صلہ رحمی کا کردار اور بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ یہی عمل معاشرتی ٹوٹ پھوٹ کو روک سکتا ہے، لہٰذا ایک دوسرے پر رحم کریں، رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا‘‘۔(صحیح بخاری)

صلہ رحمی کا مفہوم اور اس کی وسعت
صلہ رحمی ایک جامع تصور ہے جسے محض رسمی ملاقاتوں یا زبانی تعلق تک محدود نہیں کیا جا سکتا، اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ہر ممکن بھلائی اور تعاون کا رویہ اختیار کرے، اس میں مالی مدد بھی شامل ہے، جذباتی سہارا بھی، اخلاقی حمایت بھی اور عملی مدد بھی، یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس میں قریبی اور دور کے تمام رشتہ دار شامل ہوتے ہیں، والدین، بہن بھائی، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی، کزنز، سب اس کے دائرے میں آتے ہیں، ہر ایک کے ساتھ تعلق کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے، لیکن بنیادی اصول یہی ہے کہ کسی بھی رشتہ دار کو تنہا نہ چھوڑا جائے، خاص طور پر مشکل وقت میں۔

اسلامی تعلیمات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ رشتہ داروں کے حقوق کو ادا کیا جائے اور انہیں نظر انداز نہ کیا جائے، یہ محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ذمہ داری ہے، اگر کوئی شخص مالی طور پر مستحکم ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے کمزور رشتہ داروں کا خیال رکھے۔

اسی طرح اگر کوئی شخص مالی مدد نہیں کر سکتا تو کم از کم اخلاقی اور جذباتی تعاون ضرور کرے، صلہ رحمی دراصل ایک ایسا نظام ہے جو خاندان کو ایک مضبوط اکائی میں تبدیل کرتا ہے، یہ افراد کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے، اعتماد پیدا کرتا ہے اور مشکلات میں سہارا فراہم کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اسے نہایت اہمیت دی ہے اور اسے کامیابی اور برکت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

مہنگائی اور معاشرتی بگاڑ
مہنگائی کا اثر صرف جیب تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ دلوں اور رویوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے، جب وسائل کم ہو جاتے ہیں تو انسان کے اندر بے چینی، اضطراب اور بعض اوقات منفی جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں، حسد، نفرت، خودغرضی اور بدگمانی جیسے رجحانات بڑھنے لگتے ہیں، لوگ ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے ہیں اور اجتماعی سوچ کمزور پڑ جاتی ہے، ایسے حالات میں سب سے زیادہ نقصان خاندانی نظام کو ہوتا ہے، رشتہ دار ایک دوسرے سے کٹنے لگتے ہیں، ملاقاتیں کم ہو جاتی ہیں، اور تعلقات میں سرد مہری آ جاتی ہے، بعض اوقات مالی معاملات کی وجہ سے غلط فہمیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں جو رشتوں کو مزید کمزور کر دیتی ہیں۔

اسلام اس بگاڑ کو روکنے کیلئے صلہ رحمی کو ایک مضبوط حل کے طور پر پیش کرتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بخل اور حرص سے بچو، کیونکہ یہی چیزیں تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر گئیں‘‘ (صحیح مسلم)۔

جب انسان مشکل وقت میں بھی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ جڑا رہتا ہے، ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے ساتھ خیر خواہی کا رویہ اختیار کرتا ہے تو معاشرہ ٹوٹنے سے بچ جاتا ہے، اس کے برعکس اگر ہر شخص صرف اپنی ذات تک محدود ہو جائے تو معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے، یہ حقیقت ہے کہ معاشی دباؤ انسان کو مجبور کر دیتا ہے، لیکن یہی وہ موقع ہوتا ہے جہاں انسان کی اصل آزمائش ہوتی ہے، جو لوگ اس مشکل وقت میں بھی اپنے رشتہ داروں کا ساتھ دیتے ہیں، وہ دراصل ایک مضبوط اور متوازن معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔

صلہ رحمی اور رزق میں برکت
اسلامی تعلیمات کے مطابق صلہ رحمی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ رزق میں برکت کا ذریعہ بنتی ہے، عام طور پر انسان یہ سمجھتا ہے کہ خرچ کرنے سے مال کم ہو جاتا ہے، لیکن اسلامی نقط نظر اس کے برعکس ہے، یہاں خرچ کو کمی نہیں بلکہ اضافے کا سبب سمجھا جاتا ہے، جب انسان اپنے رشتہ داروں کی مدد کرتا ہے، ان کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس کے نتیجے میں اس کے اپنے معاملات میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔

یہ ایک ایسا اصول ہے جو ظاہری حساب سے ہٹ کر ہے، لیکن عملی زندگی میں بارہا اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، برکت کا مطلب صرف مال کی کثرت نہیں بلکہ اس میں سکون، اطمینان اور فائدہ کا پیدا ہونا بھی ہے، بعض اوقات کم آمدنی کے باوجود انسان مطمئن ہوتا ہے، جبکہ زیادہ آمدنی کے باوجود پریشانی کا شکار رہتا ہے۔

صلہ رحمی اس برکت کو پیدا کرتی ہے جو زندگی کو آسان اور خوشگوار بناتی ہے، مہنگائی کے دور میں یہ سوچ اور بھی ضروری ہو جاتی ہے، اگر ہر شخص یہ سمجھ لے کہ دوسروں کی مدد کرنے سے اس کے اپنے رزق میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہو گا، تو معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی آ سکتی ہے، لوگ ایک دوسرے کیلئے آسانیاں پیدا کریں گے اور اجتماعی خوشحالی کی راہ ہموار ہو گی۔

غربت میں باہمی تعاون کی ضرورت
غربت ایک ایسی آزمائش ہے جو انسان کو تنہا کر سکتی ہے، لیکن اگر معاشرہ مضبوط ہو تو یہی غربت ایک اجتماعی جدوجہد میں بدل سکتی ہے، قرآن میں ارشاد ربانی ہے ’’اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو‘‘ (سورۃ المائدہ)۔ باہمی تعاون اس سلسلے کی سب سے اہم کڑی ہے۔

جب لوگ ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں تو مشکلات کا بوجھ تقسیم ہو جاتا ہے اور زندگی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے، صلہ رحمی اسی تعاون کا عملی اظہار ہے، اگر ہر فرد اپنے قریبی رشتہ داروں کا خیال رکھے تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں، ایک خاندان کے اندر اگر وسائل کا درست استعمال اور تقسیم ہو تو کوئی بھی فرد مکمل طور پر محروم نہیں رہتا، یہ تعاون صرف مالی نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر سطح پر ہونا چاہیے، کسی کو روزگار دلوانا، کسی کی تعلیم میں مدد کرنا، کسی بیمار کی دیکھ بھال کرنا، یا کسی پریشان حال شخص کو تسلی دینا، یہ سب صلہ رحمی کے دائرے میں آتے ہیں، معاشرے کی اصل طاقت اسی باہمی تعاون میں ہے، جب لوگ ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی سے بڑی مشکل بھی آسان ہو جاتی ہے، یہی وہ جذبہ ہے جو ایک مضبوط اور متحد قوم کی پہچان ہوتا ہے۔

صلہ رحمی اور صدقہ کا فرق
اگرچہ صلہ رحمی اور صدقہ دونوں نیکی کے اعمال ہیں، لیکن ان کی نوعیت میں ایک بنیادی فرق ہے، صدقہ ایک عمومی عمل ہے جو کسی بھی مستحق شخص کیلئے کیا جا سکتا ہے جبکہ صلہ رحمی خاص طور پر رشتہ داروں کے ساتھ تعلق اور تعاون کا نام ہے۔

یہ فرق اس لیے اہم ہے کیونکہ اسلام میں رشتہ داروں کو ترجیح دینے کی تعلیم دی گئی ہے، اگر کوئی شخص اپنے رشتہ داروں کو نظر انداز کر کے باہر کے لوگوں پر خرچ کرتا ہے تو وہ ایک اہم ذمہ داری سے غفلت برت رہا ہوتا ہے، اس کے برعکس اگر وہ اپنے قریبی لوگوں کا خیال رکھتا ہے تو اسے دوہرا فائدہ حاصل ہوتا ہے: ایک نیکی کا اور دوسرا رشتہ داری کو مضبوط کرنے کا۔

مہنگائی کے دور میں یہ اصول اور بھی اہم ہو جاتا ہے، محدود وسائل کے ساتھ انسان کو ترجیحات طے کرنی ہوتی ہیں، اور اس میں سب سے پہلے اپنے خاندان اور رشتہ داروں کو شامل کرنا چاہیے، اس سے نہ صرف ان کی مشکلات کم ہوتی ہیں بلکہ ایک مضبوط سماجی ڈھانچہ بھی قائم ہوتا ہے۔

موجودہ حالات میں عملی صورتیں
آج کے دور میں صلہ رحمی کو صرف نظریاتی سطح پر نہیں بلکہ عملی طور پر اپنانے کی ضرورت ہے، اس کے کئی آسان اور مؤثر طریقے ہو سکتے ہیں جو ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اختیار کر سکتا ہے، مثلاً اگر کوئی شخص مالی طور پر مستحکم ہے تو وہ اپنے کسی ضرورت مند رشتہ دار کیلئے راشن کا بندوبست کر سکتا ہے، کسی طالب علم کی فیس ادا کر سکتا ہے یا کسی بیمار کے علاج میں مدد کر سکتا ہے، اگر مالی مدد ممکن نہ ہو تو بھی بہت سے راستے موجود ہیں، کسی رشتہ دار سے باقاعدگی سے رابطہ رکھنا، اس کی خیریت دریافت کرنا، اس کے مسائل سننا اور اسے حوصلہ دینا بھی ایک بڑی نیکی ہے۔

بعض اوقات ایک اچھا جملہ یا ایک مخلصانہ ملاقات بھی کسی کی زندگی بدل سکتی ہے، اسی طرح اجتماعی سطح پر بھی اقدامات کئے جا سکتے ہیں، خاندان کے افراد مل کر ایک فنڈ قائم کر سکتے ہیں جس سے ضرورت مند افراد کی مدد کی جائے، اس طرح نہ صرف مشکلات کم ہوں گی بلکہ رشتوں میں مضبوطی بھی آئے گی، رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص اپنے بھائی کی تکلیف دور کرتا ہے، اللہ اس کی قیامت کی تکلیف دور کرے گا‘‘۔(صحیح مسلم)

لب لباب
غربت اور مہنگائی کے اس دور میں صلہ رحمی محض ایک اخلاقی تعلیم نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت بن چکی ہے، یہ وہ اصول ہے جو معاشرے کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے، دلوں کو جوڑتا ہے، اور مشکلات کو آسان بناتا ہے، اگر انسان اپنے رشتہ داروں کے ساتھ جڑا رہے، ان کی مدد کرے اور ان کے ساتھ خیر خواہی کا رویہ اختیار کرے تو نہ صرف اس کی اپنی زندگی میں برکت آتی ہے بلکہ پورا معاشرہ فائدہ اٹھاتا ہے۔

آج کی ضرورت یہ ہے کہ ہم اس تعلیم کو سنجیدگی سے لیں اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، چھوٹے چھوٹے اقدامات سے بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں، اگر ہر شخص اپنے دائرے میں صلہ رحمی کو فروغ دے تو ایک مضبوط، متحد اور خوشحال معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے، یہی وہ راستہ ہے جو مشکل حالات میں ہمیں سہارا دیتا ہے اور ہمیں ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔

ڈاکٹر مفتی سید اطہر علی اسلامک سکالر اور استاد ہیں، ان کے مذہبی معلوماتی مضامین مختلف جرائد کی زینت بنتے رہتے ہیں۔