خلاصہ
- اسلام آباد: (ویب ڈیسک) اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان نے گزشتہ 65 برسوں میں اپنا دوسرا گرم ترین سال ریکارڈ کیا ہے، جس کے نتیجے میں شدید سیلابوں میں اضافہ ہوا اور ملکی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا ہوئے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ کا گرم ترین سال 2024 تھا جبکہ 2025 دوسرا گرم ترین سال ثابت ہوا، یوں مسلسل دو سال ملک میں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت دیکھا گیا۔
گزشتہ سال ملک کا اوسط سالانہ درجہ حرارت 23.9 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو طویل مدتی اوسط 22.8 ڈگری سینٹی گریڈ سے 1.09 ڈگری زیادہ ہے، اگرچہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم اور تاریخی طور پر صرف 0.4 فیصد حصہ ڈالتا ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا غیر متناسب بوجھ اسی پر پڑ رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اب پاکستان کے لیے کوئی دور یا فرضی خطرہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت بن چکی ہےجو معیشت اور عوام دونوں کے لیے بڑھتا ہوا چیلنج ہے۔
گزشتہ 50 برسوں میں پاکستان کے اوسط سالانہ درجہ حرارت میں تقریباً 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے، جبکہ اندازہ ہے کہ صدی کے اختتام تک اس میں مزید 3 سے 5 ڈگری تک اضافہ ہوسکتا ہے۔
2025 میں شمالی علاقوں میں گرمی کی شدت غیر معمولی رہی، درجہ حرارت میں اضافے کی شرح گلگت بلتستان میں 1.24 ڈگری، خیبر پختونخوا میں 1.29 ڈگری اور آزاد جموں و کشمیر میں 1.56 ڈگری رہی، جو گزشتہ 65 برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔
دوسری جانب 2025 میں ملک بھر میں 288.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو طویل مدتی اوسط 297.6 ملی میٹر سے تقریباً 3 فیصد کم ہے۔
بارش کی تقسیم یکساں نہیں رہی، سندھ، پنجاب اور گلگت بلتستان میں اوسط سے زیادہ بارش ہوئی، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بارش معمول سے کم رہی۔
جولائی سے ستمبر کے دوران مون سون کی بارشیں اوسط سے 23 فیصد زیادہ رہیں، جبکہ سال کے آغاز (جنوری تا مارچ) میں بارشیں نمایاں طور پر کم تھیں۔
ماہرین کے مطابق یہ موسمی تبدیلیاں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور مون سون کے نظام میں تبدیلی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے بارشوں میں بے قاعدگی بڑھ رہی ہے، اب بارش کے دن کم لیکن شدت زیادہ ہو گئی ہے، جبکہ مون سون کا رخ جنوبی علاقوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جس سے سیلابی خطرات کی نوعیت بدل رہی ہے۔
اسی وجہ سے 2025 کے سیلابوں نے ملک کے تمام صوبوں کو متاثر کیا، جو 2022 کے تباہ کن سیلابوں کی یاد تازہ کرتے ہیں، سروے میں خبردار کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی مالی معاونت کی کمی کے باعث پاکستان اپنے اقوام متحدہ سے کیے گئے موسمیاتی وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ شدید گرمی دنیا بھر میں جانیں لے رہی ہے، عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2022 سے اب تک یورپ میں شدید گرمی کے باعث دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یورپ کے لیے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر ہانس ہنری کلوگ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ایک واضح اور فوری خطرہ ہیں، اور اس کا سب سے مہلک اظہار شدید گرمی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے، شدید گرمی بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کے لیے خاص طور پر خطرناک ہے، جبکہ زیادہ تر اموات کو بروقت اقدامات سے روکا جا سکتا تھا۔
ال نینو کی واپسی
ال نینو بحرالکاہل کے خط استوا کے قریب سمندری پانی کے درجہ حرارت میں اضافے کا قدرتی مظہر ہے، جو دنیا بھر میں بارشوں، ہواؤں اور موسم کے معمولات کو متاثر کرتا ہے۔
امریکی ادارے نے اعلان کیا ہے کہ ال نینو دوبارہ شروع ہو چکا ہے اور سال کے آخر تک اس کے مزید طاقتور ہونے کا امکان ہے، نومبر سے جنوری کے دوران 63 فیصد امکان ہے کہ یہ ایک انتہائی طاقتور ایل نینو بن جائے گا، جو 1950 کے بعد کے بڑے واقعات میں شمار ہو سکتا ہے۔