خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہےکہ اٹھارویں ترمیم اتفاق رائے سےہوئی ہے لیکن اس میں دوبارہ اتفاق رائے سے بہتری ہوسکتی ہے اور بہتری کا راستہ پورے آئین میں کھلا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ گل پلازہ کی منزلوں کی منظوری کس نے دی اور کب بنی، اس کا پورا احتساب ہونا چاہئے، پی ٹی آئی کا 8 فروری کو احتجاج فیل ہوگا۔
پی ٹی آئی سے متعلق انہوں نے کہا کہ عمران خان ہر ملاقات کو ریاست اور اداروں کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملاقات کا طریقہ کار طے کردیا ہے، محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس جمہوریت پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں، میرا نہیں خیال کہ مذاکرات فوری طور پر شروع ہوں گے۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا چاہئے کیونکہ ضلعی حکومت کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہے اور جب تک ضلعی حکومت کو بااختیار نہیں بنایا جائےگا لوگوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
خواجہ آصف کے بیان پر انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں خواجہ آصف نے ذاتی رائے دی اور اسمبلی میں کسی کو بات سے روکنا مناسب نہیں، آپ اس کا جواب دیں لہٰذا ذاتی رائے کو ذاتی ہی رہنا چاہئے، ہر رکن کو اظہار رائے کا اختیار ہے اور ویسے بھی خواجہ آصف نے کب کہا کہ انہوں نے پارٹی پالیسی دی ہے، انہوں نے ذاتی رائے دی ہے۔
مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم اتفاق رائے سےہوئی ہے لیکن اس میں دوبارہ اتفاق رائے سے بہتری ہوسکتی ہے اور بہتری کا راستہ پورے آئین میں کھلا ہے، 18 ویں ترمیم پر ہمارا موقف ہے ، اس پر بات ہونی چاہئے۔