خلاصہ
- کوئٹہ: (دنیا نیوز) فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، فورسز نے بروقت کارروائی کرکے تمام ناکام بنا دیئے، 10 جوان مادرِ وطن پر قربان ہو گئے، 58 دہشت گرد جہنم واصل کر دیئے گئے، دو روز میں 99 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں یہ تمام حملے ناکام بنا دیئے ہیں، دہشت گردوں کی مزید ہلاکتوں اور نقصانات کی بھی اطلاعات ہیں، تعاقب جاری ہے۔
دہشتگردوں نے مزدور خاندان شہید کر دیا
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ فتنہ الہندوستان کے انسان نما بھیڑیوں نے گوادر میں خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ مزدور خاندان کے 5 افراد کو بھی شہید کر دیا ہے جن میں ایک خاتون کے علاوہ تین بچے بھی شامل ہیں، سکیورٹی فورسز کی طرف سے دہشت گردوں کے تعاقب میں آپریشنز اور فضائی نگرانی جاری ہے۔
خیال رہے کہ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے دوران ہندوستانی میڈیا اور سوشل میڈیا کی فتنہ الہندوستان کی مکمل سپورٹ دونوں کے گٹھ جوڑ کو مزید واضح کرتی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے گزشتہ 48 گھنٹوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس کے علاوہ کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندوستان کے 99 دہشت گرد جہنم واصل کر چکے ہیں۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بی ایل اے سے وابستہ غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کی جانب سے دہشت گردی کی ناقص منصوبہ بندی پر مبنی متعدد کارروائیاں کی گئیں، جنہیں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے تمام مقامات پر فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنایا، کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور چند گھنٹوں کے اندر صورتحال پر مکمل طور پر قابو پالیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملے فتنہ الہندوستان نامی نیٹ ورک نے کیے، جو بی ایل اے کا غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد دھڑا ہے تاہم فتنہ الہندوستان سے منسلک پروپیگنڈا نیٹ ورکس اور بھارتی میڈیا کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کے برعکس یہ حملے کسی قسم کا مؤثر نتیجہ حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے، فورسز نے دہشت گردوں کا ’’ہیروف 2.0‘‘ مکمل ناکام بنا دیا۔
متعدد مقامات پر حملے، فورسز کا منظم اور بروقت ردِعمل
کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ میں دہشت گردوں نے پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، پولیس اہلکاروں نے فوری جوابی فائرنگ کی جبکہ فرنٹیئر کور کے دستوں نے علاقے میں پہنچ کر کارروائی کو مضبوط بنایا، اس دوران چار دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے اور علاقہ مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا۔
نوشکی میں دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی کوشش کی، تاہم چوکس اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو بغیر کسی نقصان کے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔
دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی کوشش کے دوران کم از کم دو دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کی، کلیئرنس آپریشن کے دوران صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں رہی۔

قلات میں دہشت گردوں نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور پولیس لائنز کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی، جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، سکیورٹی فورسز نے مؤثر جواب دیتے ہوئے حملہ آوروں کو بھاری نقصان پہنچایا اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک دیا۔
پسنی میں دہشت گردوں نے پاکستان کوسٹ گارڈز کی تنصیب پر دور سے فائرنگ کی کوشش کی، جبکہ گوادر میں ایک مزدوروں کی کالونی کو نشانہ بنایا گیا، دونوں مقامات پر پولیس اور ایف سی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملوں کو ناکام بنا دیا۔
اسی طرح بلوچہ، تمپ، مستونگ اور خاران میں سکیورٹی پوسٹس پر بیک وقت دستی بم حملے اور دور سے فائرنگ کی گئی، جنہیں سکیورٹی فورسز نے کامیابی سے پسپا کر دیا۔
صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے
سکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان بھر میں مجموعی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے، صرف 2 سے 3 سکیورٹی اہلکاروں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں، جبکہ کسی بھی سٹریٹجک تنصیب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

یہ حملے حالیہ انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کے بعد کیے گئے، جن میں بلوچستان بھر میں 50 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے، سکیورٹی ذرائع کے مطابق تازہ کارروائیاں دہشت گردوں کی بھاری ناکامیوں کا ازالہ کرنے کی ایک ناکام اور بوکھلاہٹ پر مبنی کوشش تھیں، جو ایک بار پھر بری طرح ناکام ہو گئیں۔
قیادت غیر ملکی پناہ گاہوں میں محفوظ، مقامی نوجوان شکار
خیال رہے کہ تشدد کی ان کارروائیوں کی ذمہ داری براہِ راست بشیر زیب بلوچ، اللہ نذر اور جلا وطن حربیار مری پر عائد کی گئی ہے، جو پاکستان سے باہر، بالخصوص افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے کارروائیاں چلا رہے ہیں، بی ایل اے اور بی ایل اے ایف پاکستانی قانون کے تحت کالعدم تنظیمیں ہیں، جبکہ بی ایل اے کو امریکہ بھی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔
سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بی ایل اے کی قیادت بیرونِ ملک محفوظ زندگی گزار رہی ہے، جبکہ بلوچ نوجوانوں کو خودکش حملوں اور براہِ راست سکیورٹی فورسز پر حملوں جیسے انتہائی خطرناک کاموں میں دھکیلا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان ناکام حملوں، اندرونی اختلافات اور گروہی جھڑپوں میں مارے جانے والوں کو بعد ازاں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک پروپیگنڈا نیٹ ورکس (بی وائی سی اور بی این ایم) کی جانب سے زبردستی لاپتا افراد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 41 دہشت گرد ہلاک
دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے مزدوروں کی بستیوں اور مخلوط آبادی والے علاقوں جیسے نرم شہری اہداف کو نشانہ بنانا ان کے مجرمانہ کردار کو مزید بے نقاب کرتا ہے، جو بلوچ عوام کی نمائندگی کے ان کے دعوؤں کی صریح نفی ہے۔
ہیروف 2.0 کی ناکامی
حکام کے مطابق بڑھا چڑھا کر کیے گئے دعوؤں کے باوجود ہیروف 2.0 کا نتیجہ ناقص منصوبہ بندی، کمزور عملدرآمد اور سکیورٹی فورسز کے پیشہ ورانہ اور تیز ردِعمل کے سامنے مکمل شکست کی صورت میں نکلا، اس مہم نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مسلح تشدد بے سود ہے اور بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس مزید تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے تمام شہریوں، بالخصوص کمزور طبقات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
حکام کے مطابق اصل ذمہ داری بی ایل اے اور بی ایل اے ایف کی بیرونِ ملک بیٹھی دہشت گرد قیادت اور ان کے غیر ملکی سرپرستوں پر عائد ہوتی ہے، جن کی وجہ سے بلوچ نوجوانوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جبکہ بلوچستان کے عوام کو نہ کوئی ترقی مل رہی ہے اور نہ ہی ریلیف مل رہا ہے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔