بسنت کے انتظامات: ضابطہ سازی، مانیٹرنگ اور نفاذ میں واضح خلا بے نقاب

بسنت کے انتظامات: ضابطہ سازی، مانیٹرنگ اور نفاذ میں واضح خلا بے نقاب

ذرائع کے مطابق کیو آر کوڈ کے بغیر پتنگیں اور ڈوریں بلیک میں فروخت ہونے لگیں، دنیا نیوز اہم ویڈیوز سامنے لے آیا۔

بغیر کیو آر کوڈ والی پتنگیں اڑیں تو مانیٹرنگ کیسے ہوگی؟ کیو آر کوڈ کے بغیر استعمال سے سرکاری ڈیٹا نامکمل ہونے کا خدشہ ہے، رات کے وقت اڑنے والی پتنگوں کی نگرانی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔

کیمیکل اور مانجھا لگی ڈوروں کی بروقت نشاندہی کیسے ممکن ہوگی؟ شام 6 بجے کے بعد اندھیرے میں غیر قانونی ڈور کے استعمال کو کون اور کیسے روکا جائے گا؟ کیا حکومت کے پاس حقیقی معنوں میں کوئی سرویلنس سسٹم موجود ہے؟

سیف سٹی کیمرے آسمان کی نگرانی کیسے کریں گے؟ سیف سٹی کیمروں سے بغیر کوڈ پتنگوں اور ڈوروں کی شناخت کیسے ہوگی؟ پشاور سے بڑے پیمانے پر چرخیال لاہور پہنچنے کی اطلاعات، وضاحت نہیں آئی، سوال برقرار ہے۔

بین الاضلاعی سپلائی چین کی مانیٹرنگ کا کوئی میکنزم موجود نہیں؟ پتنگ لوٹنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح ایس او پیز تاحال غائب ہیں، پتنگ لوٹنے کے دوران حادثات کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟

سوال یہ بھی ہے کہ غیر محفوظ اور خطرناک چھتوں کے استعمال پر فوری کارروائی کیسے ہوگی؟ کیا ضلعی انتظامیہ کے پاس چھتوں کی سیفٹی چیک کا کوئی فریم ورک ہے؟ غیر قانونی پتنگ بازی پر جرمانے اور سزاؤں کا نفاذ کیوں غیر واضح ہے؟

کیا مانیٹرنگ صرف دن کی حد تک محدود رکھی گئی ہے؟ کیمیکل ڈور سے ہونے والے حادثات کی صورت میں ذمہ دار کون ہوگا؟