خلاصہ
- زیورخ: (دنیا نیوز) وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے مذاکرات مرکز میں ملاقات ہوئی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امن عمل کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں، پاکستان نے امن کے لیے بہترین کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر کے ساتھ ملاقات کے موقع پر ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود تھے، یہ ملاقات تکنیکی سطح کے مذاکرات کے موقع پر ہوئی۔
سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بغل گیر ہوئے، ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں خطے کی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق امریکی وفد سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہبازشریف ایرانی وفد سے بھی ملیں گے، ایرانی وفد کی سربراہی باقر قالیباف کریں گے، وزیرخارجہ عباس عراقچی اور دیگر حکام بھی ہوں گے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی اور سوئس وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات ہوئی ہے، ملاقات طے شدہ سرکاری شیڈول کا حصہ تھی۔
اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایرانی وفد پاکستان اور قطر کے ساتھ بھی دو طرفہ مذاکرات کرے گا، امریکا پاکستان، قطر اور ایران کی شمولیت سے 4 فریقی مذاکرات بھی ہوں گے، ایرانی وفد آج متعدد ملاقاتیں کرے گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطح کے وفود کے ہمراہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں شرکت کیلئے سوئٹزر لینڈ پہنچے ہیں، امریکہ اور ایران کے وفود بھی پہنچ چکے ہیں، قطر بھی شریک ہوگا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت پر عملدرآمد کی حمایت اور اس کے فروغ کیلئے اپنا کردار جاری رکھے گا، پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ مفاہمت پرعملدرآمد کیلئے کردار جاری رکھے گا، مذاکرات کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اورامریکا کے وفود سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، ملاقاتوں میں مذاکرات اور پائیدار امن کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق بحران میں پاکستان کی سہولت کاری اصولی، متوازن اور تعمیری مؤقف کی مظہر ہے، ان میں امریکا ایران کے ابتدائی مذاکراتی ادوار کی میزبانی اور مسلسل سفارتی رابطے شامل ہیں، یہی پاکستانی کردار بالآخر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے کا باعث بنا۔
سوئس وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں پاکستانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہیں، پاکستانی مذاکرات کیلئے زیورخ سے برگن سٹاک پہنچ گیا، پاکستان بطور ثالث ایران امریکا مذاکرات میں شریک ہے۔