پاکستانی ثالثی کی فتح

پاکستانی ثالثی کی فتح

ایران اور اسرائیل میں شہر کے شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو رہے تھے، ایران کویت، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا تھا جس کے بعد پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں نظر آ رہا تھا اور اس تنازع کے تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کر لینے کے خدشات بڑھنے لگے تھے، مشرق وسطیٰ کے جنگ کی لپیٹ میں آنے اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو بھی ایک بڑے بحران سے دوچار کر دیا تھا۔

عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھیں، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے صورتحال کو اور بھی سنگین بنا دیا، دنیا کے کئی ممالک پٹرول اور ڈیزل کی قلت کے بحران سے دوچار تھے اور دنیا بھر میں مہنگائی کا طوفان آنے لگا اور تیسری دنیا کے ممالک کی معیشتیں لڑکھڑانے لگی تھیں۔

ادھرامریکہ ایران کی توانائی کی تنصیبات اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں پر اُتر آیا تھا تو ایران جوابی حملوں کا دائرہ بڑھانے کے بیان دے رہا تھا، دور دور تک جنگ بندی کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی تھی، ایک عالمی طاقت براہ راست جنگ کا حصہ بن چکی تھی تو روس کی صورت میں دوسری عالمی قوت ایران کی حمایت میں کھڑی نظر آ رہی تھی۔

چین بھی امریکی اور اسرائیلی عزائم کو تحفظات کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا، امریکہ کی ہر ممکن کوششوں کے باوجود نیٹو اس جنگ میں اس کا حلیف بننے سے انکاری نظر آیا جبکہ عرب ممالک پہلے سے جنگ میں فریق کی سی حیثیت اختیار کر چکے تھے، جنگ بندی کے کوئی آثار نظر آ رہے تھے اور نہ ہی کوئی اس عالمی جنگ کی صورت اختیار کرتے تنازعے کو ختم کرنے کیلئے سامنے آتا دکھائی دے رہا تھا۔

ایسے میں پاکستانی قیادت نے ایک کٹھن اور قریب قریب ناممکن نظر آنے والے مشن کا بیڑہ اٹھایا جس میں ہر طرف چیلنجز ہی چیلنجز تھے، پاکستان کو ثالثی کی ان کوششوں میں جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا رہا وہ فریقین میں موجود بے اعتمادی کی وسیع خلیج تھی، ایران کو تحفظات تھے کہ امریکہ نے ہر مرتبہ مذاکرات کے معاملے میں بد عہدی کا ثبوت دیا حالیہ جنگ سے پہلے بھی فریقین ابھی مذاکرات کی میزپر ہی تھے مگر امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کر دیا، یہی نہیں ان حملوں میں اسرائیل کی جانب سے جنگ کے حوالے سے عالمی معاہدوں اور اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔

سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ ایرانی قیادت اور فوجی کمانڈروں کو شہید کیا گیا اور شہری آبادیوں، سکولوں اور ہسپتالوں پر بھی حملے کئے گئے جن میں سیکڑوں شہادتیں ہوئیں، دنیا میں قیام امن کیلئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے ثالثی کے اس مرحلے میں پاکستان کو امریکہ اور ایران کے مابین پائے جانے والے تحفظات دور کرنے کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے چینی اور سکیورٹی کے حوالے سے تحفظات کو دور کرنے کا چیلنج بھی درپیش رہا۔

تاہم پاکستانی قیادت کی انتھک کوششوں اور دوراندیش سفارتکاری کی بدولت پہلے مرحلے میں فریقین کے درمیان 8 اپریل کو عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا، جس کے بعد دوسرے مرحلے میں اسلام آباد میں امریکہ ایران براہ راست مذاکرات جبکہ ثالثی کی اس کامیاب کوشش کے تیسرے مرحلے میں متحارب فریقین میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی صورت میں مکمل جنگ بندی کا مرحلہ مکمل کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 18 جون کو فرانس کے ورسائی محل میں ایک عشائیے کے دوران اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر ورچوئیلی دستخط کئے، جس پر پاکستان کی جانب سے بھی دستخط کئے گئے اور اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ کے تحت جنگ بندی پر فوری عمل درآمد شروع ہو گیا، اس کا مقصد عارضی طور پر جنگ کو روکنا اور 60 دنوں کے اندر ایک مستقل امن معاہدے تک پہنچنا ہے۔

معاہدے کے اہم نکات میں دونوں جانب سے پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی شامل ہے، پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے دنیا کو امن لوٹانے کے اس مشن میں جس دانشمندی اور عرق ریزی کے ساتھ ثالثی اور سفارتکاری کی وہ اب تاریخ کا ایک انمٹ نقش بن چکا ہے جس کی دنیا معترف ہے، اس سفارتی کامیابی کے نتیجے میں سعودی عرب، چین، روس اور مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے تمام اہم ملکوں کے ساتھ پاکستان کے روابط مزید گہرے ہوئے ہیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیاں کا حالیہ دورہ پاکستان، ان کامیاب سفارتی کوششوں کا ایک بڑا ثبوت ہے، ایرانی صدر کے اعلیٰ سطحی دورے کی دونوں ممالک کیلئے غیر معمولی سفارتی اور اقتصادی اہمیت ہے، اس دورے سے پاک ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، دوطرفہ تجارت بڑھانے اور سرحدی تعاون کو فروغ دینے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک نے توانائی، تجارت، سلامتی اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطہ سکیورٹی چیلنجز سے امن کی جانب بڑھ رہاہے لہٰذا باہمی روابط کا فروغ نہایت اہم ہے، اس دورے سے نہ صرف دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات مستحکم ہوں گے بلکہ خطے میں امن، ترقی اور اقتصادی تعاون کو بھی تقویت ملے گی۔