خلاصہ
- لاہور: (مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان) تاریخ اسلام کے صفحات ان گنت درخشاں شخصیات کے تذکرے سے منور ہیں، مگر بعض ہستیاں ایسی ہیں جو محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک مکمل تاریخ، ایک زندہ استعارہ اور ایک ابدی پیغام بن جاتی ہیں۔
انہی مقدس و برگزیدہ شخصیات میں قافلہ شہدائے کربلا کے سرخیل، نواسہ رسول، شہزادہ خلیفۃ الرسول اور جگر گوشہ بتول سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا نام نامی نہایت عظمت و احترام کے ساتھ جگمگاتا ہے، آپؓ کی حیات طیبہ شجاعت، صداقت، عبادت، سخاوت اور حق گوئی کا ایسا حسین مرقع ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، بالخصوص واقعہ کربلا نے آپؓ کے کردار کو قیامت تک کیلئے حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنا دیا۔
زیر نظر مضمون میں آپ رضی اللہ عنہ کی شخصیت، فضائل، مناقب، علمی و عملی مقام اور سیرتِ طیبہ کے چند روشن پہلوؤں کو نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
ولادت باسعادت اور شہادت کی خبر
ولادت و شہادت کے بارے میں حسب ذیل روایات ہیں، حضرت عباسؓ کی زوجہ حضرت اُم فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: یارسول اللہﷺ! رات میں نے عجیب خواب دیکھا ہے، آپﷺ نے دریافت کیا: کیسا خواب ہے؟ عرض کی: میں نے دیکھا ہے کہ گویا آپﷺ کے بدن کا کوئی ٹکڑا کٹ کر میری گود میں آگیا ہے، رسول اللہﷺ نے تعبیر بیان فرمائی کہ تم نے اچھا خواب دیکھا ہے، فاطمہؓ کے ہاں بچہ پیدا ہوگا، وہ تمہاری گود میں ہوگا (تم اُسے دودھ پلاؤ گی)، چنانچہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حضرت حسینؓ پیدا ہوئے، تو میری گود میں آئے۔
ایک روز میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور حسینؓ کو میں نے رسول اللہﷺ کی گود میں ڈال دیا، نبی کریمﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، حضرت اُمِ فضل رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے اللہ کے نبیﷺ! میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان، آپﷺ کو کیا ہوا ہے؟ آنحضورﷺ نے فرمایا: میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے خبر دی کہ میری اُمت میرے اس بیٹے کو شہید کر دے گی، اور وہ میرے پاس اُس کی (خون آلود) سرخ مٹی کا کچھ حصہ بھی لائے ہیں۔ (مستدرک حاکم: 4818)
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حضرت حسنؓ کی پیدائش ہوئی تو نبی کریمﷺ تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ آپؓ فرماتے ہیں :میں نے عرض کی: میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے، نبی کریمﷺ نے فرمایا:نہیں یہ حسنؓ ہے، جب حسینؓ کی ولادت ہوئی تو رسول اللہﷺ تشریف لائے اور پوچھا تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟آپؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے، تو آپﷺنے فرمایا: نہیں یہ حسینؓ ہیں۔ پھر فرمایا: میں نے ان کے نام حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد شبر اور شبیرکے نام پہ رکھے ہیں۔ (مستدرک حاکم: 4773)
امام احمد بن حنبلؒ روایت کرتے ہیں کہ: سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے ہاں جب سیدنا امام حسینؓ کی ولادت ہوئی تو انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! کیا میں اپنے بیٹے کا عقیقہ نہ کروں؟ ارشاد فرمایا: نہیں! پہلے ان کے بال اترواؤ اور بالوں کے وزن کے برابر چاندی صفہ والوں اور دوسرے مسکینوں پر صدقہ کرو۔ (مسند احمد بن حنبل: 27253)
فضائل و مناقب
آپؓ کی سب سے بڑی فضیلت یہی ہے کہ آپؓ نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول اور شیر خداؓ کے لخت جگر اور رتبہ صحابیت پر فائز ہیں، جو اس حسب و نسب کی فضیلت کو باعث نجات اُخروی بنا دیتا ہے، آپؓ کے فضائل و مناقب میں بہت ساری احادیث وارد ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ: حسنین کریمین رضی اللہ عنہما رسول اللہﷺ کے سامنے کشتی کا کھیل، کھیل رہے تھے، اور آنحضرتﷺ فرما رہے تھے: حسنؓ شاباش، جلدی کرو، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا عرض کرنے لگیں: آپﷺ حسنؓ کو ہی کیوں شاباش دے رہے ہیں؟ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ: حسینؓ کو جبرائیل امین علیہ السلام کہہ رہے ہیں کہ شاباش حسینؓ! جلدی کرو‘‘ (اسدالغابہ: ج2، ص24)
حضرت اسامہ بن زیدؓ کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے کسی کام سے نبی کریمﷺ کا دروازہ کھٹکھٹایا، رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے تو آپﷺ نے کچھ اوڑھا ہوا تھا، جب میں اپنے کام سے فارغ ہوگیا تو میں نے عرض کیا کہ: یہ کیا ہے جو آپﷺ نے اُٹھا رکھا ہے؟ تو نبی کریمﷺ نے ہٹایا تو حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپﷺ کی پشت مبارک پر تھے، پھر آپﷺ نے فرمایا کہ: یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں، اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں، پس تو بھی ان سے محبت فرما اور اس سے بھی محبت فرما جو اِن دونوں سے محبت رکھے۔(سنن ترمذی: 3769)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ:رسولِ خداﷺ سے پوچھا گیا کہ آپﷺ کو اہل بیت میں سے کس سے سب سے زیادہ محبت ہے؟ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ: حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے، چنانچہ رسول اللہﷺ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے کہ میرے بچوں کو میرے پاس بلاؤ، پھر آپﷺ انہیں چومتے اور سینے سے لگاتے۔ (جامع ترمذی: 3772)
حضرت یعلیٰ بن مرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں حسینؓ سے ہوں (لہٰذا حسینؓ سے محبت مجھ سے محبت ہے اور حسینؓ سے دشمنی مجھ سے دشمنی ہے) اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرتے ہیں جو حسینؓ سے محبت کرتا ہے۔ (جامع ترمذی:3775)
ایک دفعہ رسول کریمﷺ نماز کیلئے تشریف لائے تو آپﷺ نے اپنے لاڈلوں حضرت حسن یا حضرت حسین رضی اللہ عنہما میں سے کسی کو اٹھایا ہوا تھا، آپﷺ امامت کیلئے آگے بڑھے تو دائیں پاؤں کی جانب نواسے کو بٹھا دیا، پھر سجدہ کیا اور لمبا سجدہ کیا۔ آپﷺ نے (نماز سے فارغ ہو کر) رخ پیچھے موڑا تو لوگوں نے عرض کی: یارسول اللہﷺ! آپﷺ نے آج جیسا سجدہ کیا ایسا سجدہ پہلے کبھی نہیں فرمایا، کیا کوئی وحی نازل ہوئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، میرا بیٹا مجھ پر سوار تھا، میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ اسے جلدی اتار دوں (المستدرک للحاکم: 4775)
امام حسینؓ کا علم
حضرت سیدنا امام حسینؓ میدانِ علم میں بے مثل تھے، آپؓ نے شہر علم رسول اللہﷺ اور دروازہ شہر علم امیر المؤمنین حضرت علیؓ سے علم دین کا بیش بہا خزانہ پایا، آپؓ کی علم سے بھرپور گفتگو ایسی دلکش ہوا کرتی کہ لوگوں کی یہ خواہش ہوتی کہ آپؓ خاموش نہ بیٹھیں بلکہ علم و حکمت کی بہار آتی رہے، آپؓ نے اپنے جد کریم، حضور نبی کریمﷺ سے، اپنے والدین اور حضرت عمر فاروقؓ سے احادیث سنیں اور روایت کیں۔ (الاصابہ ، ج 2 ، ص68)۔
آپؓ کا مْستقل علمی حلقہ مسجد نبوی میں لگا ہوتا، جس میں آپؓ لوگوں کو فقہی مسائل سے آگاہ فرماتے تھے، آپؓ کے اس علمی حلقے کی شہرت اتنی تھی کہ ایک بار حضرت امیرِ معاویہؓ سے کسی نے امام حْسینؓ کے متعلق پوچھا تو آپؓ نے فرمایا: مسجد نبوی میں چلے جاؤ اور جس حلقے میں لوگ یوں مؤدب بیٹھے ہوں گویا اُن کے سروں پر پرندے ہوں تو جان لینا کہ یہی حضرت ِ امام حسینؓ کی مجلس ہے(تاریخ دمشق، ج14، ص 181)۔
شہادت کی شہرت
حضرت امام حسینؓ کی زندگی میں ہی آپؓ کی شہادت کی خبر ہر خاص و عام تک پہنچ چکی تھی، سیدنا امام حسینؓ کی شہادت کی یہ خبر حضورﷺ نے خود سیدہ عائشہ صدیقہ، حضرت اُم سلمیٰ، حضرت انس ابن مالک، حضرت اُم فضل بن حارث، ابو امامہ البابلی، انس ابن حارث، زینب بنت جحش، مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہما کو دی اور پھر یہ خبر ان صحابہ کرامؓ سے تابعین نے آگے دی، گویا شہادت کی یہ خبر آپؓ کو بھی معلوم تھی، اہل بیت اور صحابہ کرامؓ کو بھی اس کا علم تھا۔
یزید کی بیعت سے انکار
جب حضرت امیر معاویہؓ کا وصال ہوا تو لوگوں نے یزید کے ہاتھ پر بیعت کی، یزید نے اسی وقت ولید بن عتبہ جو مدینہ کا گورنر تھا کو خط لکھا کہ سب لوگوں کو بلاؤ اور میری بیعت لو اور بیعت کی ابتداء حسین ابن علیؓ سے کی جائے، اس نے آپؓ کو یزید کا پیغام دیا، حضرت امام حسینؓ نے ایک رات کی مہلت مانگی، رات کو امام عالی مقامؓ نے حضورﷺ کی قبر انور پر جا کر سلام عرض کیا اور شہر مدینہ چھوڑ کر حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب کے گھر مکہ مکرمہ میں جا کر قیام کرنے کا فیصلہ فرمایا اور کربلا روانگی تک یہیں قیام پذیر رہے۔
جب آپؓ کو اہل کوفہ کے لگاتار اور پے در پے خطوط اور بعدازاں حضرت امام مسلم بن عقیلؓ کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد کوفہ آنے کی تجویز پر کوفہ روانہ ہوئے تو اسی اثناء میں کوفہ کے حالات یکسر بدل گئے اور ابن زیاد نے گورنر کے طور پر ذمہ داری سنبھال لی۔
سیدنا امام حسینؓ کے قافلے کو عمرو بن سعد کی قیادت میں ایک لشکر نے روک لیا، آپؓ نے عمرو بن سعد کو فرمایا: میں تمہارے سامنے تین باتیں رکھتا ہوں ان میں سے کوئی ایک قبول کر لو۔ (1) ایک صورت تو یہ ہے کہ میرا راستہ نہ روکو، اسلام کے عظیم لشکر سرحدوں پر جو فتوحات میں مصروف ہیں اور جہاد کر رہے ہیں، میں جا کر کسی لشکر میں شریک ہو کر جہاد میں بقیہ زندگی گزارتا ہوں۔ (2) دوسری صورت یہ کہ مجھے براہ راست یزید سے گفتگو کرنے دو، میں اس سے پوچھوں گا کہ وہ کس بنیاد پر بیعت کا مطالبہ کرتا ہے۔ (3) مجھے چھوڑ دو میں کہیں دور دراز علاقوں میں چلا جاؤں گا، شہروں میں نہیں رہوں گا، عمرو بن سعد نے یہ شرائط ابن زیاد کو لکھ کر بھجوائیں مگر ان میں سے کسی کو قبول نہ کیا گیا بلکہ کہا گیا کہ سب سے پہلے یزید کیلئے امام حسینؓ سے بیعت لی جائے گی، امام حسینؓ نے فرمایا: ’’خدا کی قسم ایسا کبھی نہیں ہو سکتا‘‘۔
واقعہ کربلا
حضرت امام حسین ؓیزید کی بیعت سے انکار پر واقعہ کربلا کا آغاز ہوا اور یکے بعد دیگرے اہل بیت اطہار کے جوانوں کو شہید کیا گیا، چھوٹے بڑے 17 اصحاب صرف اہل بیت رسولﷺ میں سے شہید کر دیئے گئے، بقایا آپؓ کے اصحاب تھے، اہل بیت میں سے صرف سیدنا امام زین العابدینؓ بچے، آپ کی شہادت، روز عاشورہ، دس(10) محرم الحرام سنہ اکسٹھ(61) ہجری کو ہوئی۔
شہداء کی تعداد
واقعہ کربلا کے سلسلہ میں مؤرخین کے درمیان کافی اختلاف ہے، بعض مؤرخین نے امامؓ کی فوج کو 72 تک محدود کیا ہے، ان لوگوں نے صرف کربلا میں صبح عاشور سے لے کر عصر عاشور تک کے شہداء کو مانا ہے، جو لوگ اس تعداد سے زیادہ کے قائل ہیں، ان لوگوں نے ہر اس شہید کو شہدائے کربلا کے زمرے میں شمار کیا ہے جو بالواسطہ یا بلا واسطہ جنگ کربلا سے منسلک تھے، مثلاً مسلم ابن عقیلؓ کربلا میں شہید نہیں ہوئے، انہیں امامؓ نے سفیر کی حیثیت سے کوفہ روانہ کیا تھا۔
اسی طرح بعض نصرانی دربارکوفہ و شام میں مسلمان ہو کر یزید پر نفرین کرنے لگے تو یزید نے ان کو قتل کرایا، پھر وہ بچے جو عصر عاشور خیموں کی پامالی میں شہید ہوئے یا راہ کوفہ و شام میں شہید ہوئے، یہ تقریباً 140 ناموں کی فہرست ہے، بعض کتب 108 نام اور بعض میں کم یا زیادہ نام ملتے ہیں۔