اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم قیمتوں کا تعین کرے گی: وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک

اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم قیمتوں کا تعین کرے گی: وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک

پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ رہی ہے جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت 110 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، توانائی کی قیمتوں میں دوبارہ بڑھ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت نے خطے کی صورتحال میں بہتری کے لیے کامیاب کوششیں کیں، عوام نے مشکل وقت میں تحمل کا مظاہرہ کیا۔

وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ وفاق نے پٹرولیم قیمتوں پر سبسڈی کے لیے 130 ارب روپے خرچ کیے ہیں، سبسڈی کا پروگرام آج بھی جاری ہے، عوام پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان

علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم اور کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گی اور قیمتیں ویب سائٹ پر جاری کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کے شعبے کو ڈی ریگولیشن کی طرف لے جا رہی ہے، وزیراعظم نے اس مقصد کے لیے ان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی ہے۔

وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ ملک میں مقامی طور پر تیل اور گیس کی تلاش بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، ترک پٹرولیم 20 سال بعد سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے اکتوبر میں اپنا جہاز لا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سرکلر ڈیٹ کے معاملے پر کام جاری ہے، جبکہ ریفائنریز کو اپ گریڈ کر کے خام تیل کے استعمال اور عالمی منڈی کی مسابقتی قیمتوں پر عوام کو تیل کی فراہمی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنایا جا رہا ہے، پاکستان کو بہتر طریقے سے آگے لے کر چلیں گے۔

عالمی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھیں، پاکستان میں قلت نہیں ہونے دی: عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا تعلق خطے میں جاری کشیدگی سے ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان پر بھی پڑتے ہیں۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء تارڑ نے کہا کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوششوں کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کشیدگی عروج پر تھی تو دنیا بھر میں تیل کی قلت پیدا ہوئی، تاہم پاکستان نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے اضافی ذخائر کا انتظام کیا اور ملک میں پٹرول کی قلت نہیں ہونے دی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مختلف ممالک سے کارگو منگوا کر ملکی توانائی کی ضروریات پوری کی گئیں، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے زیادہ منافع کمانے کی بات درست نہیں۔

عطاء تارڑ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب ہفتہ وار کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں اور بچیوں کو الیکٹرک وہیکل چلاتے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے، ملک میں جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی سخت مانیٹرنگ کی جارہی ہے، کسی کو بھی پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔