خلاصہ
- اسلام آباد:(دنیا نیوز) رہنما پیپلز پارٹی ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ حکومت ناکام ہو چکی، وقت آنے پر ہم کندھا بھی کھینچ سکتے ہیں۔
پروگرام ’دنیا مہربخاری کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ موجودہ قومی حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک میز پر بیٹھنا ہوگا تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مشترکہ حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا ہونا چاہیے، ان کے بقول محسن نقوی کے مؤقف اور منطق میں وزن ہے، اس پر پارلیمان اور میڈیا دونوں میں سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔
رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ اب یہ فیصلہ کرنے کا وقت آ گیا ہے کہ ملک کو پارلیمانی نظام کے تحت چلایا جائے یا صدارتی نظام اپنایا جائے، کیونکہ ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ جب وزیر داخلہ خود ملک کے حالات پر تشویش کا اظہار کریں تو یہ صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ محسن نقوی کے حالیہ بیانات پر پیپلز پارٹی بھی حیران تھی اور صدر آصف علی زرداری کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ محسن نقوی ایسی گفتگو کرنے جا رہے ہیں۔
رہنما پیپلز پارٹی نے حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے جب کہ یہ بھی واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو پیپلز پارٹی مناسب وقت پر حکومت سے اپنی حمایت واپس لینے کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے۔
انہوں نے دوران گفتگو اِس بات پر بھی زور دیا کہ قومی مسائل کے حل کے لیے وسیع سیاسی مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔