پنجاب میں 80 لاکھ بچیاں سکول نہیں جا رہیں: حافظ نعیم الرحمان کا دعویٰ

پنجاب میں 80 لاکھ بچیاں سکول نہیں جا رہیں: حافظ نعیم الرحمان کا دعویٰ

**لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا  تھا کہ پنجاب میں لاکھوں بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں اور حکومت نے بچیوں کے ہزاروں سکول آؤٹ سورس کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں تقریباً 80 لاکھ بچیاں سکول نہیں جا رہیں، جبکہ صوبے کا لٹریسی ریٹ زیادہ سے زیادہ 70 فیصد ہے، خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد تعلیم سے محروم ہے، خواتین ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں لیکن ان کے بنیادی حقوق نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔

امیرجماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکومت نے بچیوں سے تعلیم کا بنیادی حق چھین لیا ہے جب کہ ڈاکٹر بننے والی بچیوں کو بھی ہاؤس جاب میں پورا حصہ نہیں ملتا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت امن، محفوظ ٹرانسپورٹ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکام ہو چکی ہے اور عوام کے سامنے صرف چند نمائشی اقدامات پیش کیے جا رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ مہنگائی نے خواتین کو گھریلو مسائل میں مبتلا کر دیا ہے، مائیں اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر بچوں کی فیسیں ادا کرنے پر مجبور ہیں جبکہ لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہو چکے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ  صحت کے شعبے کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بنیادی مراکز صحت سے متعلق ذمہ داری سے جان چھڑانے کی کوشش کی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جو ڈاکٹر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے اسے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں جب کہ حکومت کے پاس ڈاکٹروں کو دینے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ساڑھے 8 کروڑ مزدور ہیں، جن میں تقریباً تین کروڑ خواتین شامل ہیں، خواتین فیکٹریوں اور کھیتوں میں کام کرتی ہیں لیکن پنجاب کی چار کروڑ خواتین کے لیے کم از کم اجرت بھی طے نہیں ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ 40 فیصد سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، گزشتہ چھ برس میں ملک بھر میں غربت میں 33 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پنجاب میں غربت میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے، شہباز شریف، مریم نواز اور انہیں مسلط کرنے والوں کی پالیسیوں نے عوام کو مزید غریب کر دیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمران عوام کے پیسوں سے پلتے ہیں اور عوام پر بجلی اور لیوی بم گرائے جا رہے ہیں، حکمرانوں کے مظالم سے معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، حکومت کو اپنی ڈھٹائی ختم کرکے عوام کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیم میں غریب کے بچوں کا حق بھی اتنا ہی ہے جتنا حکمرانوں کے بچوں کا، جبکہ خواتین کو بھی مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں خواتین کی بڑی تعداد مہنگائی اور معاشی مشکلات کے باعث احتجاج میں شریک ہے۔