خلاصہ
- کراچی: (دنیا نیوز) نوجوان تاجر میر رضا کیس میں حکومت سندھ کی جانب سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
سندھ کابینہ نے جوڈیشل انکوائری کروانے کا فیصلہ کر لیا، سندھ حکومت کی جانب سے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھ دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عدالت کی جانب سے سندھ حکومت کو تاحال جواب موصول نہیں ہوا ہے، جوڈیشل انکوائری کی منظوری سرکولیشن سمری کے ذریعے کروائی گئی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا ہلاکت کیس کی تحقیقات میں پولیس تفتیشی ٹیم کو اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے، ذرائع کے مطابق پولیس نے متوفی میر رضا کے نام پر رجسٹرڈ موبائل فون سم حاصل کر لی ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق بائیو میٹرک اور تمام ضروری دستاویزی کارروائی کی تکمیل کے بعد یہ سم میر رضا کی والدہ کے نام پر منتقل کر کے جاری کر دی گئی ہے، اس اقدام کا بنیادی مقصد میر رضا کے واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنا ہے تاکہ چیٹ کا بیک اپ ڈیٹا برآمد کر کے تفتیش کو آگے بڑھایا جا سکے۔
پولیس کو میر رضا کے قریبی دوستوں کو بھیجے گئے کچھ واٹس ایپ پیغام بھی ملے ہیں، جن میں اس نے اپنے شدید معاشی اور گھریلو حالات کا تذکرہ کیا تھا۔
اس کے علاوہ پولیس نے جائے وقوعہ کے قریب واقع ایک رہائشی عمارت کے سکیورٹی گارڈ کے ساتھ ساتھ قریبی مسجد کے پیش امام، مؤذن اور کمیٹی کے ارکان کے بیانات بھی قلمبند کر لیے ہیں۔
تحقیقاتی کمیٹی نے میر رضا کی موت سے قبل آخری بارہ گھنٹوں کی سرگرمیوں پر مشتمل ایک تفصیلی ٹائم لائن بھی تیار کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میر رضا آخری وقت تک سرمایہ کاری اور قرضے کے حصول کے لیے کوشاں تھا۔
پولیس کے مطابق میر رضا نے 27 جولائی کی شام پونے چھ بجے کے قریب شارع فیصل پر ایک شخص سے ملاقات کر کے 70 سے 80 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر بات کی، تاہم رات سوا آٹھ بجے کے قریب اس شخص نے فون کر کے سرمایہ کاری سے معذرت کر لی۔
اسی دوران رات سات بجے کے قریب بینک نے میر رضا کو بتایا کہ اس کی بہن کے نام پر ایک کروڑ روپے کا قرض منظور ہو گیا ہے۔
بعد ازاں ٹیپو سلطان روڈ پر مزید ملاقاتوں اور رات گئے ایک کباب ہاؤس میں دوست کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد بھی میر رضا کی جانب سے مختلف لوگوں سے رابطوں کا سلسلہ جاری رہا۔