آزادکشمیر میں انٹرنیٹ سروس کی مرحلہ وار بحالی کا آغاز

آزادکشمیر میں انٹرنیٹ سروس کی مرحلہ وار بحالی کا آغاز

محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سدھنوتی اور راولاکوٹ میں انٹرنیٹ سروس بدستور مکمل طور پر بند رہے گی۔

‎نوٹیفکیشن کے مطابق مظفرآباد، جہلم ویلی، باغ اور کوٹلی میں براڈ بینڈ اور وائی فائی انٹرنیٹ سروس صرف تعلیمی اداروں، جن میں سکولز، کالجز اور یونیورسٹیاں شامل ہیں، کے لیے بحال کی جائے گی۔

 ‎دوسری جانب میرپور، بھمبر، حویلی اور نیلم ویلی میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بحال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق لیپا ویلی میں بھی مکمل انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے جبکہ سدھنوتی اور راولاکوٹ میں سروس مکمل طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 ‎انٹرنیٹ سروس 5 جون کو راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی لانگ مارچ اور دھرنے کی کال کے بعد عائد پابندیوں کے باعث معطل کر دی گئی تھی جو پہلی بار 48 روز کی طویل بندش کے بعد جزوی طور پر بحال کی گئی تھی، تاہم مظفرآباد میں ہڑتال اور تصادم کے بعد انٹرنیٹ دو روز بعد 25 جولائی کو دوبارہ بند کر دیا گیا تھا، وزیراعظم افتخار گیلانی نے دو روز قبل پریس کلب مظفرآباد میں پریس کانفرنس کے دوران اپنی پہلی میڈیا ٹاک میں انٹرنیٹ کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

‎حکام کے مطابق انٹرنیٹ کی بحالی کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا اور آئندہ مرحلے میں موبائل فون پر بھی انٹرنیٹ سروس بحال کر دی جائے گی۔

‎انٹرنیٹ کی بندش کے باعث کاروباری سرگرمیاں اور سرکاری امور بری طرح متاثر ہوئے جبکہ ہزاروں صارفین انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم رہے، ڈیجیٹل ادائیگیوں پر انحصار کرنے والے تاجروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ طلبہ، فری لانسرز، سرکاری ملازمین اور دیگر پیشہ ور افراد کو اپنے معمول کے کاموں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

‎ادھر شہریوں اور فری لانسرز نے انٹرنیٹ کی جزوی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور متعلقہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ جن ایام میں انٹرنیٹ سروس میسر نہیں تھی ان ایام کے بل معاف کیے جائیں کیونکہ اس عرصے کے دوران صارفین کو سروس دستیاب ہی نہیں تھی اور نہ ہی کسی قسم کا کاروبار ہو سکا۔