خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کو وجہ بتائے بغیر آف لوڈ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
ملائیشیا جانے والے شہری کو وجہ بتائے بغیر آف لوڈ کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس ایاز شوکت نے حکم دیا کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر آئندہ سماعت منگل کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوں، یہ بھی حکم دیا کہ جس کو بھی آف لوڈ کیا جائے اس کی وجہ لکھی جائے۔
جسٹس ایاز شوکت نے قرار دیا کہ حکام وزٹ ویزہ اور انویسٹمنٹ ویزہ کو ایک سمجھ رہے ہیں۔
دورانِ سماعت اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور دیگرایف آئی اے حکام عدالت میں پیش ہوئے، درخواست گزار شہری محمد سعید خان اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت پیش ہوا جبکہ شہری کو آف لوڈ کرنے والا افسر عدالتی حکم کے باوجود پیش نہ ہوا۔
جسٹس ایاز شوکت نے استفسار کیا کہ جس نے آف لوڈ کیا تھا وہ خود کیوں نہیں آئے؟ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل ایف آئی اے نے بتایا کہ جس نے آف لوڈ کیا ان کے والد کو کارڈیک مسئلہ تھا اس لیے نہیں آسکے، جسٹس ایاز شوکت نے حکم دیا کہ اگلی سماعت پر انہیں کہیں پیش ہوں اور ساتھ سرٹیفکیٹ لے کر آئیں۔
خاتون افسر کی جانب سے انویسٹمنٹ ویزہ اور وزٹ ویزہ کو ایک جیسا کہنے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا اور کہا کہ آپ نے رپورٹ میں کچھ اور لکھا ہوا اور روسٹرم پر کچھ اور بتا رہی ہیں، اپنا بیان حلفی جمع کروائیں اور یہ رپورٹ بھی تبدیل نہ ہو۔
جسٹس ایاز شوکت نے کہا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل بھی اپنا بیان حلفی جمع کروائیں، ائیرپورٹ کے معاملات کون دیکھتا ہے؟ اس پر ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ائیرپورٹ کے سارے معاملات دیکھتے ہیں، انہیں کہیں منگل کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوں اور متعلقہ ریکارڈ ساتھ لائیں۔